انوارالعلوم (جلد 11) — Page 112
۱۱۲ ۳۳ کروڑ بت پوجے جاتے تھے مگر ان ہندوؤں میں سے ہی آریہ اٹھے جو کہتے ہیں کہ ہم ہی اصل توحید کے ماننے والے ہیں۔اسی طرح مسیحیوں کو دیکھو تو وہ کہتے ہیں اصل توحید ہم میں ہی ہے میں نے عیسائیوں کی ایسی کتابیں پڑھی ہیں جن میں وہ لکھتے ہیں کہ اسلام نے ہم پر یہ غلط اعتراض کیا ہے کہ ہم شرک میں مبتلا ہیں حالانکہ اب بھی ان میں ایسے لوگ ہیں جو حضرت مریم اور حضرت مسیح کی پرستش کرتے ہیں۔غرض کتنا بڑا تغیر رونما ہوگیا کہ جہاں جہاں قرآن پڑھا گیا وہاں توحید قائم ہوتی چلی گئی۔اوردنیا یہ اقرار کرنے لگ گئی کہ خدا ہی اکرم ہے۔یہ کتنی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو قرآن کریم کےمتعلق کی گئی۔پھر پہلے دن پہلی وحی میں اور پہلے وقت میں کی گئی۔قلم کے ذریعہ ہر قسم کے علوم کا اظہار ایک اور پیشگوئی اس وحی میں قرآن کے متعلق یہ کی کہ اَلَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ یعنی اس کتاب کے ذریعہ نہ صرف یہ ثابت ہوگا کہ تیرا رب سب سے بالا ہے اور باقی ساری ہستیاں اس کے تابع ہیں بلکہ ساتھ یہ بھی ثابت ہوگا کہ اَلَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ تیرے رب نے قلم کے ساتھ علم سکھایا ہے۔یعنی آئندہ تحریر کا عام رواج ہوجائے گا۔وہ مکہ جہاں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت صرف سات آدمی پڑھے لکھے تھے۔جہاں کے بڑے بڑے لوگ لکھنا پڑھنا ہتک سمجھتے تھے۔شعراء اپنے شعر صرف زبانی یاد کرتے تھے اور اگر انہیں کہا جائے کہ اشعار لکھوا دئیے جائیں تو اسے اپنی ہتک سمجھتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے کہ لوگ ان کے اشعار زبانی یاد رکھتے ہیں۔جب قرآن نازل ہوا تو ان میں ایک عظیم الشان تغیر آگیا یہاں تک کہ صحابہ میں کوئی ان پڑھ نہ ملتا تھا سو میں سے سو ہی پڑھے لکھے تھے تو فرمایا اَلَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ اس کتاب کے ذریعہ دوسرا عظیم الشان تغیر یہ ہوگا کہ لوگوں کی توجہ علوم کی طرف پھیر دی جائے گی چنانچہ آپ کی بعثت کے معاً بعد لکھنے کارواج ترقی پزیر ہوا۔صحابہ ؓ نے لکھنا پڑھنا شروع کیا۔مدینہ میں آپ نے سب بچوں کو تعلیم دلوائی یہاں تک کہ عرب کا بچہ بچہ پڑھ لکھ گیا بلکہ اسلام کے ذریعہ سے یونانی کتب بھی محفوظ ہوگئیں۔غرض قلم کا استعمال اس کثرت سے ہوا کہ اس کی مثال پہلے زمانہ میں نہیں ملتی۔یہاں سوال ہوسکتا ہے کہ اس بات تعلق قرآن کریم کی فضیلت سے کیا ہے؟ سویاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم کو کامل اور افضل ثابت کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے