انوارالعلوم (جلد 11) — Page 111
۱۱۱ کی عزت اس کے ذریعے سے دنیا میں قائم ہوتی جائے گی۔اس کلام کے ذریعے تیرا رب اکرم کے طور پر ظاہر ہوگا۔اس وقت نہ صرف عرب میں بلکہ سارے جہان میں شرک پھیلا ہوا تھا اور حالت یہ تھی کہ آخری مذہب جو عیسائیت تھا اس کے ماننے والے عیسائی خود لکھتے ہیں کہ اسلام اس لئے اتنی جلدی اور اس وسعت کے ساتھ پھیل گیا کہ عیسائیت میں شرک داخل ہو چکا تھا۔ہندوؤں کی کتابو ں کو دیکھو تو یہی معلوم ہوگا کہ اس وقت ہندوؤں میں بکثرت شر ک پایا جاتا تھا۔زرتشتی بھی مانتے ہیں کہ اس زمانہ میں ہر طرف شرک ہی شرک تھا۔غرضیکہ تمام مذاہب والے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسلام کے پھیلنے کی یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہر مذہب میں شرک پھیل چکا تھا۔ہم کہتے ہیں یہ درست ہے اور قرآن کریم نے ایسے ہی وقت میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ شرک مٹ جائے گا اور خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم ہوجائے گی۔اس وقت جب کہ قرآن نے توحید پیش کی مکہ والوں کی جو حالت تھی اس کا ذکر قرآن کریم اس طرح کرتا ہے کہ انہوں نے کہا أَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا إِنَّ ہَذَا لَشَیْء ٌ عُجَابٌ ۱۷ یہ عجیب بات ہے کہ اس نے سارے معبودوں کو کوٹ کاٹ کر ایک بنا دیا ہے ان لوگوں کو یہ خیال ہی نہیں آتا تھا کہ وہ الہ ہیں ہی نہیں۔وہ سمجھتے تھے کہ سب معبودوں کو اس نے اکٹھا کر کے ایک بنا دیا ہے۔سورۃ ص میں ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔مگر معاً ان کی حالت بدلنے لگی۔اور اس کے بعد ان میں اس قدر تغیر پیدا ہوگیا کہ انہوں نے اسلامی توحید کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دیئے اور یہ کہنے لگے کہ مَا نَعْبُدُہُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا إِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی ۱۸ یعنی یہ یونہی کہتا ہے کہ ہم مشرک ہیں ہم تو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے بتوں کو مانتے ہیں۔گویا وہ معذرت کرتے ہیں کہ ہم کب کہتے ہیں کہ بت خدا ہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ان کے ذریعے خدا کا قرب حاصل ہو تا ہے۔یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو ان میں پیدا ہوا اور کس طرح خدا تعالیٰ کا اکرم ہونا ظاہر ہوگیا۔غرض فرماتا ہے۔اِقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ تو اس کتاب کو پڑھ کیونکہ اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی توحید پھیلنے لگ جائے گی۔لوگ خدا تعالیٰ کو ماننے لگ جائیں گے اور اس کا جلال دنیا میں قائم ہو جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مگر یہ تو اس وقت کا حال تھا جب قرآن کریم نازل ہوا۔اب دیکھ لو کہ کس طرح شرک کے خیالات دنیا سے مٹ رہے ہیں۔ہندوستان میں