انوارالعلوم (جلد 11) — Page 583
۵۸۳ فضائل القرآن(نمبر ۳) لکڑیاں ڈالنے لگا۔پہلے روزانہ ایک بوجھ لایا کرتا تھا۔پھر دو لانے لگا۔ایک بوجھ کھانے کی قیمت میں دیتا۔اور ایک بوجھ کی قیمت سے گزارہ چلاتا۔آخر چھ ماہ کے بعد اسے وہ کھانا دیا گیا۔جب وہ اسے لے کر گھر گیا۔تو کسی فقیر نے اس کے دروازہ پر جاکر کھانا مانگا۔لکڑہارے کی بیوی نے کہا۔یہی کھانا اسے دے دو۔کیونکہ ہم توچھ ماہ لکڑیاں ڈال کر یہ پھر بھی لے سکتے ہیں لیکن یہ اس طرح بھی نہیں لے سکتا۔لکڑہارے نے وہ کھانا فقیر کو دے دیا۔اسی طرحـ ہمایوں کو جس سقّہ نے دریا میں ڈوبتے ہوئے بچایا تھا۔اسے جب کہا گیا کہ جو کچھ چاہو مانگو تو اس نے چار پہر کے لئے بادشاہت مانگی۔یہ تھی ایک سقّہ کے دل کی خواہش تو خدا تعالیٰ دلوں کو پڑھتا ہے۔فلسفی کو ان باتوں کی کیا خبر ہوسکتی ہے پس دلوں کے احساسات کا لحاظ رکھتے ہوئے اسلام نے یہ حکم دیا کہ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۳۵کہ جو کچھ خدا نے دیا ہواس میں سے خرچ کرو۔روپیہ ہی صدقہ میں نہیں دینا چاہیے کبھی اچھا کپڑا بھی دو۔اچھا کھانا بھی دو بلکہ جو کچھ تمہیں دیا جائے اس میں سے بانٹتے رہو۔اس سے بھی واضح الفاظ میں دوسری جگہ فرمایا۔کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ اِذَا اَثْمَرَ وَ اٰ تُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ وَلَا تُسْرِفُوْا۔۳۶ اے باغوں والے مسلمانو!جب تمہارے باغ پھل لاتے ہیں تو تم اپنے عزیزوں سمیت بیٹھ کر ان کے پھل کھاتے ہو کبھی تمہیں یہ بھی خیال آیا کہ باغ کی دیوار کے ساتھ گزرنے والے غریب کا بھی پتہ لیں کہ اس کے دل میں کیا گزرتا ہے۔کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ اِذَا اَثْمَرَ جب پھل پکیں تو خوب کھاؤ مگر ایک بات ضرور مد نظر رکھو اور وہ یہ ہے کہ وَ اٰ تُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ جب پھل پک جائیں تو غریبوں کو بھی دو تاکہ وہ بھی دنیا کی نعمتوں سے حصہ پائیں۔یہ نہیں فرمایا کہ پھل بیچ کر کچھ روپے غریبوں کو دے دو کہ ان سے دال روٹی کھالیں۔مگر اس کے ساتھ یہ بھی فرما دیا وَلَا تُسْرِفُوْا ہا ں اسراف نہ کرو یہ نہ ہو کہ روز غریبوں کو سنگترے وغیرہ تو کھلاتے رہو۔مگر ان کے کپڑوں اور کھانے پینے کا خیال نہ رکھو ہر ایک امر کی ایک حد ہونی چاہیے۔پھر بتایا کہ جو کچھ دوحلال مال سے دو۔فرمایا یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ ۳۷ اے ایمان دارو! جو کچھ تم نے کمایا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے دل میں غریبوں کی مدد کے لئے جوش اٹھتاہے تو ڈاکے مارنا شروع کر دیتے ہیں۔وہ لوگ جو اخلاقی علوم سے واقف نہیں