انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 582

۵۸۲ فضائل القرآن(نمبر ۳) تیسری صورت یہ ہے کہ کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے مانگے مثلاً کسی کو مارنے کے لئے ریوالور خریدنا چاہے تب بھی نہیں دیں گے۔صدقات سے انکار کرنے کا طریق آٹھویں۔اسلام نے یہ بتایا ہے کہ صدقہ نہ دینے اور انکار کرنے کا کیا طریق ہونا چاہیے۔یعنی بتایا کہ انکار کرو تو کس طرح کرو۔فرمایا۔اَمَّاالسَّآئِلَ فَلَا تَنْھَرْ ۳۴؂ جب انکار کرو تو سائل کو ڈانٹ کر نہ کرو۔تم انکار کر سکتے ہو مگر سائل پر سختی نہیں ہونی چاہیے۔پھر فرمایا۔فَقُلْ لَّھُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا ایسی بات کرو جس سے مانگنے والے کو ذلت محسوس نہ ہو۔لوگ کہتے ہیں سائل کو نرمی سے جواب دینا چاہیے۔یہ اَمَّاالسَّآئِلَ فَلَا تَنْھَرْمیں آچکا ہے قَوْلًا مَّیْسُوْرًا کے یہ معنی ہیں کہ اس طرح جواب نہ دو کہ اسے ذلّت اور شرمندگی محسوس ہو۔صدقات میں کیا چیز دی جائے نویں۔اسلام نے یہ بتایا کہ کیا چیز صدقہ میں دی جائے۔یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ کسی غریب کو اچھا کپڑا دینے کا کیا فائدہ۔اس کی بجائے اگر دس غریبوں کو کھدر کے کپڑے بنوادئیے جائیں تو زیادہ اچھا ہوگا۔یامثلاً ایک شخص کو پلاؤ کھانے کی بجائے دس کو آٹا دے دیا جائے تو یہ بہتر ہے۔لیکن یہ ان کی غلطی ہے۔اسلام فطرت کی گہرائیوں کو دیکھتا ہے۔اسلام جانتاہے کہ غرباء روزانہ امراء کو اچھا کھانا کھاتے اور اچھے کپڑے پہنتے دیکھتے اور خود بھی چاہتے ہیں کہ ویسے ہی کپڑے پہنیں اور ویسے ہی کھانے کھائیں۔اس لئے ایسی بھی صورت ہونی چاہیے کہ ان کو اس امر کے مواقع حاصل ہوسکیں۔اسلام لوگوں کو خشک فلسفی نہیں بناتا بلکہ لوگوں کے دلوں کے خیالات پڑھنے کا حکم دیتا ہے۔ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے جسے ہم بھی بچپن میں بہت خوشی سے سنا کرتے تھے۔قصہ یہ تھا کہ کوئی لکڑ ہارا تھا جو بادشاہ کے باورچی خانہ کے لئے لکڑیاں لایا کرتا تھا۔ایک دن جب وہ لکڑیاں لے کر آیا تو کھانے کو بگھار لگایا جارہا تھا۔اس کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور باورچی سے کہنے لگا کہ کیااس کھانے میں سے مجھے کچھ دے سکتے ہو۔اس نے کہا۔یہ بڑا قیمتی کھانا ہے۔تمہیں کس طرح دیا جاسکتا ہے۔کہتے تھے اشرفیوں کا بگھار لگاتے تھے۔یہ معلوم نہیں کس طرح لگاتے تھے۔لکڑ ہارے نے پوچھا۔یہ کتنا قیمتی ہے۔اسے بتایا گیا کہ تمہاری چھ ماہ کی لکڑیوں کی قیمت کے مساوی ہے۔اس پر وہ