انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 472

۴۷۲ انتخاب کے بعد بھی اسمبلی اس مسودہ کو پاس کر دے تو پھر اسے پاس سمجھا جائے- دونوں کو برخاست کرنے کی غرض یہ ہے کہ تابغیر کافی وجہ کے کونسل آف سٹیٹ بجٹ کو رد نہ کرے اور تا ممبروں کو احساس رہے کہ اگر ہم نے بلا وجہ ایسا کام کیا تو صوبہ جات ہمیں دوبارہ منتخب نہ کریں گے- (۳) کونسل آف سٹیٹ کو یہ بھی اختیار ہو کہ جس مسودہ کے متعلق وہ یہ فیصلہ کر دے کہ اس سے صوبہ جات کے ان حقوق پر زد پڑتی ہے جو قانون اساسی کے ذریعہ سے انہیں حاصل ہیں تو وہ مسودہ کسی مزید کارروائی سے پہلے صوبہ جات کی کونسلوں کے پاس بھیجا جائے اور اگر کونسلوں کی اکثریت کا یہ فیصلہ ہو کہ اس سے ان کے حقوق پر زد پڑتی ہے تو وہ مسودہ رد کر دیا جائے- لیکن گورنر جنرل کو اختیار ہو کہ اگر وہ یہ دیکھیں کہ معاملہ اہم ہے اور فوری توجہ چاہتا ہے تو کونسل کے فیصلہ کو رد کر کے مسودہ پر مزید کارروائی ہونے کی اجازت دے دیں- اس صورت میں جو صوبہ یہ سمجھتا ہو کہ اس سے اس کی یا صوبہ جات کی حق تلفی ہوئی ہے وہ اس معاملہ کو سپریم کورٹ میں پیش کر کے فیصلہ کرا سکتا ہے یا اگر صوبہ جات اور مرکز کے درمیان یا صوبہ جات اور صوبہجات کے درمیان فیصلہ کے لئے ثالثی کا طریق زیادہ پسند کیا جائے تو امریکن شرائط اتحاد مابینالدول(ARTICLES OF CONFEDERATION) کی دفعہ ۹ کے مطابق کچھ اصول طے کر لئے جائیں اور اختلاف کے موقع پر ان کے ماتحت فیصلہ کیا جایا کرے- مجلس عاملہ (ایگزیکٹو کونسل) میرے نزدیک ڈومینین سٹیٹس (DOMINION STATUS )کے اصول پر کام چلانے کے لئے ایگزیکٹو کے موجودہ طریق میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے اس وقت ایگزیکٹو کونسل (EXECUTIVE COUNCIL) کا ایک ممبر کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے- یہ طریق جیسا کہ سائمن کمیشن نے لکھا ہے درست نہیں کیونکہ کمانڈر انچیف ایک مستقل عہدہ دار ہے اور بوجہ اپنے سیاسی خیالات کے نہیں بلکہ اپنے ماہر فن ہونے کے اپنے اس کام پر مقرر کیا جاتا ہے- پس اسے ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنانا درست نہیں- میرے نزدیک آئندہ اصلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جنگی وزیر مقرر کر دیا جائے جو سویلین (CIVILIAN) ہو تاکہ جب بھی حکومتخوداختیاری مکمل ہو آسانی سے اس صیغہ کو منتقل کیا جا سکے اور میری اوپر کی