انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 473

انوار العلوم جلد اا ۴۷۳ بیان کردہ سکیم کے ماتحت اس محکمہ میں بھی مرکزی مجالس کی سفارش پر ایک غیر سرکاری افسر مقرر کیا جا سکے- ہاں اس صیغہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات قانون میں ضرور آ جانی چاہئے کہ ایک تجربہ کار افسر سیکرٹری کے عہدہ کا وزیر جنگ کے ساتھ مقرر کیا جائے تا کہ فنی (TECHNICAL) معاملات میں وہ مشورہ دے سکے- دوسری اصلاح میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ سائمن رپورٹ نے جو لیڈر آفدی ہاؤس (LEADER OF THE HOUSE) ایک نیا عہدہ تجویز کیا ہے اس کی زیادتی کی جائے اور لیڈر آف دی ہاؤس پر مقرر ہونے والا شخص صرف قانون ساز مجلس میں ہی لیڈر کا کام نہ دے بلکہ ایگزیکٹو کونسل کا بھی وائس پریزیڈنٹ ہو اور اس کی حیثیت وزارت میں وزیراعظم کی سی ہو- گورنر جنرل کو اختیار ہو کہ وہ اہم معاملات میں وزارت کو بلوا کر اپنے سامنے مشورہ کرے اور خود مجلس وزارت کی صدارت کرے- لیکن عام طور پر جیسا کہ آئینی حکومتوں میں دستور ہے صدارت کے کام کو وزیر اعظم پر چھوڑ دے- اس سے آہستہ آہستہ اسی راہ پر کام پڑ جائے گا جس پر اسے ڈالنا مقصود ہے- تیسری اصلاح یہ ضروری ہے کہ سائمن کمیشن کی سفارش کے مطابق آئندہ انتخاب ممبروں کا وائسرائے کی مرضی پر رہے- یہ بھی اچھی اصلاح ہے اس سے آئندہ وزارت کے لئے داغ بیل پڑ جائے گی اور بغیر کسی تغیر کے آہستگی سے سروسز (SERVICES) کی بجائے اسمبلی کے ممبروں کی طرف وزارت منتقل ہو سکے گی- چوتھی اصلاح یہ بھی مفید ہو سکتی ہے کہ ایگزیکٹو کے ممبر، ممبر کہلانے کی بجائے سیکرٹری یا منسٹر کہلائیں اس صورت میں اسمبلی کے منتخب ممبر جن کے بطور نائب مقرر کرنے کے متعلق میں پہلے لکھ چکا ہوں بجائے سیکرٹری کے نائب سیکرٹری کہلائیں- یہ اصلاح گو نام کی ہے لیکن نام کا بھی انسان کی طبیعت پر اثر ہو جاتا ہے اور نام اسے اس طریق عمل کی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے جو اس کے لئے پسند کیا گیا ہے- ایگزیکٹو کونسل کے ممبر دونوں مرکزی مجلسوں کے بہ حیثیت عہدہ ممبر ہوں اور ان کے سوا اسمبلی میں کوئی نامزد شدہ ممبر نہ ہو- مرکزی حکومت میں انتخابی عنصر کی ترقی یہ انتظام میرے نزدیک پہلے پانچ سال تک کسی صورت میں تبدیل نہ ہو سکے- پانچ سال کے بعد دونوں مرکزی مجالس میں اگر تین چوتھائی ممبروں کی کثرت سے یہ ریزولیوشن پاس