انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 471

۴۷۱ منتخب نمائندوں اور ایگزیکٹو کے درمیان میں بطور ایک واسطہ کے بن جائیں گے کیونکہ ایک طرف ان کے سامنے حکومت کی مشکلات ہوں گی اور دوسری طرف پبلک کی خواہشات- (۴) چوتھے بعض محکمے ایسے نامزد کر دیئے جائیں- جیسے کہ مثلاً تعلیم ہے، حفظان صحت ہے، صنعت و حرفت ہے کہ ان محکموں کے متعلق اسمبلی کو حق ہو کہ وہ سال کے شروع میں ایک عام ہدایت طریق کار کے متعلق دے دیں اور وہ محکمے اس ہدایت کی حتی الوسع پابندی کریں- حتی الوسع سے مراد یہ کہ جب خاص وجوہ سے عمل نہ ہو سکتا ہو تب اسمبلی کے منشاء کے خلاف عمل ہو- ورنہ اسی کے مطابق ہو مجھے معلوم ہے کہ یہ محکمے اصل میں صوبہ جاتی ہیں لیکن کچھ کام ان کے ماتحت مرکز سے بھی متعلق ہے- نیز میں نے ان کا ذکر صرف بطور مثال کے کیا ہے ورنہ اگر یہ مناسب نہ ہوں تو اور ایسے محکمے اس غرض کے لئے چنے جا سکتے ہیں- (۵) فوج، فارن اور پولیٹیکل معاملات کے متعلق اسمبلی کو ریزولیوشن پاس کرنے کی اجازت نہ ہو عام اظہار رائے کر سکتی ہے- کونسل آف سٹیٹ کا کام علاوہ پینل تجویز کرنے کے یہ ہو-: (۱) اسمبلی کے پاس شدہ مسودات پر نظر ثانی جس کے بعد مسودہ پھر پہلی مجلس میں جائے- اگر اسمبلی سفارشوں کو منظور کر لے تو فبہا اگر منظور نہ کرے تو دونوں مجلسوں کی جائنٹکمیٹی کے سپرد ہو- اگر پھر بھی کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکے اور اسمبلی ساٹھ فیصدی حقیقیاکثریت سے اسے دوبارہ پاس کر دے تو وہ پاس شدہ سمجھا جائے ورنہ رد ہو جائے- لیکن نیا مسودہ پاس کرنے یا اس پر بحث کر کے اسے رد کرنے کی کونسل آفسٹیٹ کو اجازت نہ ہو- ہاں اسے ایگزیکٹو سے سفارش کرنے کا اختیار دیا جائے کہ فلاں امر کے متعلق قانون کی ضرورت ہے- (۲) مالی مسودات میں ترمیم کرنے کا اسے اختیار نہ ہو لیکن سفارش کر کے دوبارہ غور کرنے کے لئے وہ بجٹ یا مالی مسودہ کو بھیج سکے لیکن پورے طور پر بجٹ کو یا کسی اور مالی مسودہ کو رد کرنے کا اسے اختیار ہو- لیکن اس کا لازمی نتیجہ یہ سمجھا جائے کہ اگر اسمبلی ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو دونوں مجالس برخاست ہو جائیں اور اگر نئے