انوارالعلوم (جلد 11) — Page 594
۵۹۴ فضائل القرآن(نمبر ۳) ۵۴ تمہارے نفسوں سے تمہارا جوڑا اور چوپایوں میں سے ان کا جوڑا بنایاگیا۔اگر حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے حوا پیدا کی گئی تھی تو چاہئے تھا کہ پہلے گھوڑا پیدا ہوتا اور پھر اس کی پسلی سے گھوڑی بنائی جاتی۔اسی طرح جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا تو فرشتہ آتا اور اس کی پسلی کی ایک ہڈی نکال کر اس سے لڑکی بنادیتا۔مگر کیا کسی نے کبھی ایسا دیکھا ہے؟ تیسرے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ھوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَجَعَلَ مِنْھا زَوْجَھا لِیَسْکُنَ إِلَیْھا۵۵ وہ خدا ہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا وَجَعَلَ مِنْھا زَوْجَھا اوراس سے اس کا جوڑا بھی بنایا ہے لِیَسْکُنَ إِلَیْھا تاکہ وہ اس سے تعلق پیدا کر کے تسکین حاصل کرے۔وہ لوگ جو کہا کرتے ہیں کہ انسان کا جوڑا پسلی سے بنایا گیا ہے وہ بھی صرف یہی کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے حوا کو بنایا گیا۔یہ کوئی نہیں کہتا کہ حوا کی پسلی سے آدم علیہ السلام کو بنایا گیا۔لیکن اس آیت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرد کی پسلی سے عورت نہیں بنی بلکہ عورت کی پسلی سے مرد بنا ہے کیونکہ اس میں زَوْجَھا کی ضمیرنَفْسٍ وَاحِدَۃٍ کی طرف جاتی ہے جو مؤنث ہے اسی طرح مِنْھا میں بھی ضمیر مؤنث استعمال کی گئی ہے۔اس کے بعد یہ ذکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ سے اس کا زوج بنایا اور زوج کے لئے لِیَسْکُنَ میں مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زوج نر تھا جو ایک مادہ سے پیدا ہوا۔پس ان معنوں کے لحاظ سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ عورت مرد کی پسلی سے نہیں بلکہ مردعورت کی پسلی سے پیدا ہوا ہے جسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ان آیات کا اصل مطلب یہ ہے کہ عورت مرد کا اور مرد عورت کا ٹکڑا ہے اور دونوں مل کر ایک کامل وجود بنتے ہیں۔الگ الگ رہیں تو مکمل مرد نہیں ہوسکتے۔مکمل اسی وقت ہوتے ہیں جب دونوں مل جائیں۔اب دیکھو! یہ کتنی بڑی اخلاقی تعلیم ہے جو اسلام نے دی۔اس لحاظ سے جو مرد شادی نہیں کرتا وہ مکمل مرد نہیں ہوسکتا۔اسی طرح جو عورت شادی نہیں کرتی وہ بھی مکمل عورت نہیں ہوسکتی۔پھر جو مرد اپنی عورت سے حسن سلوک نہیں کرتا اور اسے تنگ کرتا ہے وہ بھی اس تعلیم کے ماتحت اپنا حصہ آپ کاٹتا ہے۔اسی طرح جو عورت مرد کے ساتھ عمدگی سے گذارہ نہیں کرتی وہ بھی اپنے آپ کو نامکمل بناتی ہے اور اس طرح انسانیت کا جزو نامکمل رہ جاتا ہے۔