انوارالعلوم (جلد 11) — Page 593
۵۹۳ فضائل القرآن(نمبر ۳) علیحدہ انسانیت کے جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔اگر انسانیت کو مکمل کرنا چاہتے ہو تو ان دونوں ٹکڑوں کو ملاناپڑے گا ورنہ انسانیت مکمل نہ ہوگی۔اور جب انسانیت مکمل نہ ہوگی تو انسان کمال حاصل نہ کرسکے گا۔حوا کی پیدائش آدم علیہ السلام کی پسلی سے نہیں ہوئی اس آیت پر لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ معلوم ہوا حوا آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا ہوئی تھی۔جیسا کہ بائیبل میں ہے۔لیکن یہ درست نہیں۔کیونکہ اول تو اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۵۱ یعنی ہم نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے۔تو کیا انسان کا جوڑا بنانا نعوذ باﷲ اسے یاد نہ رہا تھاکہ آدم کی پسلی سے حوا کو نکالا گیا؟ قرآن تو کہتا ہے کہ خواہ خیالات ہوں ، عقلیات ہوں ، احساسات ہوں ، ارادے ہوں ان کے بھی جوڑے ہوتے ہیں۔کوئی ارادہ ، کوئی احساس ، کوئی جذبہ مکمل نہیں ہوسکتا جب تک دو مقابل کے ارادے اور دو مقابل کے احساسات اور دو مقابل کے جذبات نہ ملیں۔اسی طرح کوئی جسم مکمل نہیں ہوسکتا جب تک دو جسم نہ ملیں۔کوئی حیوان مکمل نہیں ہوسکتا جب تک دو حیوان نہ ملیں۔کوئی انسان مکمل نہیں ہوسکتا جب تک دو انسان نہ ملیں۔پس جب اﷲ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ہر چیز کے جوڑے بنائے گئے ہیں تو کون تسلیم کرے گا کہ پہلے آدم کو بنایا گیا اور پھر اسے اداس دیکھ کر اس کی پسلی سے حوا کو بنایا۔قرآن تو کہتا ہے کہ ہر چیز کے جوڑے ہیں اس لئے جب خدا نے پہلا ذرّہ بنایا تو اس کا بھی جوڑا بنایا۔پھر خود انسان کے متعلق آتا ہے وَخَلَقْنٰکُمْ اَزْوَاجًا۵۲ ہم نے تم سب لوگوں کو جوڑا جوڑا بنایا ہے۔پھر آدم کس طرح اکیلا پیدا ہوا۔اس کا جوڑا کہاں تھا؟ دوسرے یہی الفاظ کہ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْھا زَوْجَھا تمہیں نفسِ واحدہ سے پیدا کیا گیا اور اس میں سے تمہارا جوڑا بنایا۔سارے انسانوں کے متعلق بھی آئے ہیں لیکن ان کے یہ معنی نہیں کئے جاتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا۵۳کہ اے بنی نوع انسان! اﷲ نے تمہارے نفسوں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں۔اب کیا ہر ایک بیوی اپنے خاوند کی پسلی سے پیدا ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو پہلی آیت کے بھی یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ انسان کا جوڑا اس میں سے پیدا کیا گیا۔اسی طرح سورۃ شوریٰ رکوع ۲ میں آتا ہے جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا