انوارالعلوم (جلد 11) — Page 595
۵۹۵ فضائل القرآن(نمبر ۳) پس جب انسانیت مرد کا نام نہیں اور نہ انسانیت عورت کا نام ہے بلکہ مرد و عورت دونوں کے مجموعے کانام انسانیت ہے تو ماننا پڑے گا کہ انسانیت کو مکمل کرنے کے لئے مرد و عورت کا ملنا ضروری ہے اور جو مذہب ان کو علیحدہ علیحدہ رکھتا ہے وہ انسانیت کی جڑ کاٹتا ہے۔اگر مذہب کی غرض دنیا میں انسان کو مکمل بنانا ہے تو یقینا ًمذہب اس عمل کی مخالفت نہیں کرے گا بلکہ اسے اپنے مقصد کے حصول کے لئے استعمال کرے گا۔اور جو مذہبی کتاب بھی اس طبعی فعل کو برا قرار دے کر اس سے روکتی ہے یا اس سے بچنے کو ترجیح دیتی ہے وہ یقینا ًانسانی تکمیل کے راستہ میں روک ڈال کر اپنی فضیلت کے حق کو باطل کرتی ہے۔اب یہ سوال ہوسکتا ہے کہ جب مرد اور عورت ایک ہی چیز کے دو ٹکڑے ہیں تو کیوں ان کو علیحدہ علیحدہ وجود بنایا؟ کیوں ایسا نہ کیا کہ ایک ہی وجود رہنے دیتا تاکہ مرد کو عورت کی اور عورت کو مرد کی خواہش ہی نہ ہوتی۔اس کا جواب اسلام یہ دیتا ہے کہ وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً۵۶ اس کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لئے جوڑے بنائے تاکہ تمہیں آپس میں ملنے سے سکون حاصل ہو۔گویا انسان میں ایک اضطراب تھا۔اس اضطراب کو دور کرنے کے لئے اس کے دو ٹکڑے کردئیے گئے۔اور ان کو آپس میں ملنا سکون کا موجب قرار دیا گیا۔اب ہم غور کرتے ہیں کہ وہ کون سا اضطراب ہے جس کا نمونہ عورت و مرد کے تعلقات ہوسکتے ہیں سو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہی أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی ۵۷ والا اضطراب ہے جو انسانی فطرت میں رکھا گیا ہے۔اور جس کے لئے تجسس کی خواہش اس کے اندر ودیعت کی گئی ہے جو اسے رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کی طرف لے جاتی ہے۔جو چیز اپنی ذات میں مکمل ہو اس میں تجسس نہیں ہوتا لیکن جب تجسس کا مادہ ہوتو بسا اوقات لوگ کسی چھوٹی چیز کا تجسس کرتے ہیں تو انہیں بڑی چیز مل جاتی ہے۔خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کے قلب میں تجسس کی خواہش پیدا کردی ہے۔جب وہ اس سے کام لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کی ذات اس کے سامنے جلوہ گر ہوجاتی ہے اور وہ اسے پالیتا ہے۔جب مرد عورت کی تلاش کر رہا ہوتا ہے اور اس کے لئے اپنے قلب میں اضطراب پاتا ہے تو خدا کہتا ہے کہ کیا میں اس قابل نہیں ہوں کہ تم میری تلاش کرو۔تب اس کی زبان سے بَلٰی کی آواز نکلتی ہے اور وہ کہہ اٹھتا ہے کہ آپ ہی تو اصل مقصود ہیں۔اسی طرح جب عورت مرد کی تلاش کر رہی ہوتی ہے اسے