انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 485

۴۸۵ سے ریاستوں کو کوئی دلچسپی نہ ہو گی کیونکہ وہ خود معاہدات کے رو سے دخل اندازی سے محفوظ ہوں گی- پس ان کے نمائندے اگر ان لوگوں سے مل گئے جو اتصالی حکومت کی تائید میں ہوں گے تو صوبہ جات کی آزادی تباہ ہو جائے گی- یہ اور ایسی ہی اور بہت سی مشکلات ہیں جن کی وجہ سے جب تک ریاستیں پولیٹیکل محکمہ کے ساتھ وابستہ ہیں اور جب تک ان میں انتخابی حکومت کا طریق جاری نہیں ہوتا وہ ہندوستان کی اسمبلی اور کونسل آف سٹیٹ میں شامل نہیں ہو سکتیں- جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان دونوں امور میں تبدیلی ریاستوں کے لئے مفید ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اس فائدہ کو ابھی تسلیم نہیں کرتیں اور جب تک وہ تسلیم نہ کریں انہیں نہ مجبور کیا جا سکتا ہے اور نہ اس صورت میں ہندوستان کے مفاد کو عموماً اور اقلیتوں کے مفاد کو خصوصاً خطرہ میں ڈالا جا سکتا ہے- پس ضرورت ہے کہ اس سوال کو کسی اور نقطہ نگاہ سے دیکھا اور حل کیا جائے- میں نے جہاں تک غور کیا ہے اس کی ایک ہی صورت نظر آتی ہے- اور وہ یہ ہے کہ اتحادی حکومت کا طریق برطانوی ہند اور ریاستی ہند میں الگ الگ جاری کیا جائے- ریاستی ہند کا اتحاد کس قسم کا اتحاد ہو ہمیں اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں- بہرحال چیمبر آف پرنسز (CHAMBER OF PRINCES) کے ذریعہ سے یا کسی اور ذریعہ سے وہ بھی اپنے نظام میں ایک یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کریں اور پھر ان دونوں نظاموں کی ایک کانفیڈریشن (CONFEDERATION)بنا دی جائے- وہ ہندوستان کی فیڈریشن (FEDERATION) میں تو شریک نہ ہوں لیکن کانفیڈریشن میں شریک ہوں اور انہیں ہندوستان کے قانون سے تو کچھ تعلق نہ ہو لیکن کسٹمز، ریلوے، سکہ، صرافی، پوسٹ آفس، تار، ہوائی جہاز، سڑکوں، بے تار برقی کا آلہ، تجارت، بنکنگ، ماوراء البحر ہندوستانیوں کے حقوق، افیون وغیرہ (یہ فہرست سائمن کمیشن رپورٹ سے لی گئی ہے)- قسم کے امور کے تصفیہ کے لئے سرِدست ریاستوں کی فیڈریشن برطانوی ہند کے ساتھ شریک ہو جائے- سائمن کمیشن نے دونوں حصوں کے تعاون کے لئے ایک کمیٹی تجویز کی ہے جس میں کچھ لوگ تو برطانوی ہند سے شامل ہوں اور کچھ لوگ والیان ریاست کی طرف سے- حکومت ہند کے نمائندے کمیشن نے دو قسم کے تجویز کئے ہیں- یعنی کچھ تو مجالس قانون ساز سے چنے جائیں