انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 486

۴۸۶ اور کچھ وائسرائے مقرر کریں- لیکن جو سب سے اہم سوال تھا کمیشن نے اسے حل نہیں کیا، یعنی ان کے آپس میں ملنے اور مشورہ کرنے کا فائدہ کیا ہو گا؟ اس نے صرف یہ ذکر کیا ہے کہ اس کمیٹی کے غور و خوض کا نتیجہ اسمبلی اور چیمبرز آف پرنسز دونوں کے سامنے پیش کر دیا جائے- لیکن گو اس سے بالواسطہ طور پر تو کچھ فائدہ ہو لیکن بلاواسطہ طور پر اس کا کچھ نتیجہ نہ نکلے گا- پس میرے خیال میں سائمن کی تجویز سے زیادہ اتحاد پیدا کرنے والی تجویز ہونی چاہئے تاکہ آپس میں اتحاد کا راستہ نکل آئے- میں لکھ چکا ہوں کہ سب سے پہلے ضروری ہے کہ ریاستوں کا آپس میں کوئی نظام ہو- والیان ریاست کے دلوں میں عام طور یہ خیال ہے کہ یہ امر ان کے درجہ کے منافی ہے کہ وہ ہندوستان کے باشندوں سے مل کر کام کریں اور ان کا یہ احساس کسی زیادہ گہرے تعلق کے پیدا کرنے میں روک ہے- علاوہ ازیں یہ امر بھی کہ ایک علاقہ کی حکومت جمہوری ہے اور دوسری شخصی روک پیدا کرتا ہے- لیکن اگر ریاستوں کا آپس میں سمجھوتہ ہو جائے کہ ان کی چیمبرزآف پرنسز بجائے خالی غور کرنے والی مجلس کے ایک قسم کی اتحادی مجلس ہو تو پھر ہندوستانی اور ریاستی علاقوں میں اتحاد کی صورت پیدا ہو جاتی ہے- کیونکہ اس صورت میں یہ انتظام کیا جا سکتا ہے کہ دونوں کی ایگزیکٹو آپس میں مشورہ کر لیا کرے لیکن یہ تدبیر تبھی کامیاب ہو سکتی ہے کہ جب دونوں کا نظام نیابتی ہو- یعنی دونوں شاخوں کا نظام کثرت رائے کا آئینہ ہو تاکہ دونوں مجالس جو رائے مشورہ سے قائم کریں اسے اپنی اپنی مجالس میں منظور بھی کروا سکیں- گویا یہ اس قسم کا مشورہ ہو گا جیسا کہ برطانیہ کی امپیریل (IMPERIAL) کانفرنس ہوتی ہے کہ مجلس عاملہ کے ممبر آپس میں مل کر ایک پالیسی طے کر لیتے ہیں اور پھر اپنی اپنی مجالس میں اپنے اثر اور رسوخ سے اسے منظور کروا لیتے ہیں- اگر اس قسم کے نظام کے بنانے میں ہم کامیاب ہو جائیں تو اس سے کئی قسم کے فوائد ہوں گے- (۱) ریاستوں کو آپس میں ایسے اتحاد سے دریغ نہ ہو گا جس میں والیان ریاست یا ان کے نمائندے شامل ہوں اور ایک ایسی مرکزی مجلس بنا لیں جس میں ایسے امور جو مرکزی کہے جانے کے مستحق ہیں- مشورہ سے طے کیا کریں اور اس مجلس کا فیصلہ ان مشترک امور میں سب ریاستوں کے لئے واجب الاطاعت ہو-