انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 20

انوار العلوم جلد !! ہدایت کے متلاشی کو کیا کرنا چاہئے ذاتی تجربہ ہے۔ نہ صرف میرا بلکہ بہت سے غیر مسلموں سے بھی کرایا گیا ہے اور وہ اس طرح کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ پس اگر کسی کو دلائل سے را راہنمائی نہیں ہوئی تو وہ یہ طریق اختیار کرے پھر خدا تعالیٰ ضرور اس کی رہنمائی کرے گا۔ سورۃ فاتحہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے یہ دعا ہے اور صرف مسلمانوں کے لئے خاص نہیں بلکہ مسلمان ، غیر مسلمان سب اس سے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس میں سکھایا گیا ہے کہ بندہ یوں دعا کرے ۔ خدایا ! ہمیں ایسا رستہ دکھا جو ہدایت کا رستہ ہے اور جو پہلے مُنْعَمَ عَلَيْهِ گروه کا رستہ ہے۔ ایسا رستہ نہ رکھا جو مغضوب عَلَيْهِمْ یا ضَالَّيْنَ کا ہے۔ پس میرے نزدیک جو شخص ہدایت کا طالب ہے وہ تعصب سے دور ہو کر مذاہب کی قیود سے باہر ہو کر خدا سے دعا کرے کہ اے خدا! تو نے مجھے پیدا کیا، تو سچائیوں کا منبع ہے ، تو ہی سچا ہادی ہے تو تو مجھے سچائی کار کا رستہ دکھا۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص چالیس دن تک ایسا کرے تو ضرور اللہ تعالیٰ اس کے لئے رہنمائی کے سامان پیدا کر دے گا۔ یہ ایسا طریق ہے جس سے ہر شخص خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر میں دلائل پیش کروں اور آپ لوگ متاثر بھی ہو جائیں تو بھی ہو سکتا ہے کہ کل کو کوئی اور آئے اور ان باتوں کو غلط قرار دے اور ان کے خلاف دلائل پیش کرے اور پھر ان سے تم متاثر ہو جاؤ اس لئے میں ایسی بات پیش کرتا ہوں کہ خود بخود خدا کی طرف سے راہنمائی حاصل ہو جائے۔ یہ وہ طریق فیصلہ ہے جو میں اپنے لئے بھی پسند کرتا اگر میں ہدایت کی تلاش میں ہوتا مگر چونکہ بعض لوگ دلائل کے خواہشمند ہوتے ہیں اور وہ دلائل سننا چاہتے ہیں سو میں ان اصحاب کے لئے مختصراً چند باتیں پیش کرتا ہوں۔ ہمارا دعوی یہ ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت نہایت ابتر ہو چکی تھی اور دینی لحاظ سے وہ بالکل کو رے تھے ۔ اسلام صرف نام کا رہ گیا تھا اور قرآن کریم سے عمل اٹھ گیا تھا۔ صرف رسومات کی پابندی باقی تھی اس لئے خدا کے قاعدہ مستمرہ کے ماتحت ضرور تھا کہ کوئی مأمور و مُرسل آتا جو مسلمانوں کی حالت سنوار تا۔ اسلام قائم کرتا احکام قرآن کی پابندی کراتا۔ حضرت مرزا صاحب نے دعوی کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس غرض کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ میں مسیح موعود ہوں اور خدا کی طرف سے مامور و مُرسل ہوں۔ میرا کام یہ ہو گا کہ میں اسلام کو دنیا میں قائم کروں اور غیر مذاہب کے حملوں سے اسے بچاؤں اعتراضات کا قلع قمع کروں اور