انوارالعلوم (جلد 11) — Page 474
۴۷۴ ہو جائے کہ اب دوسرا قدم آزادی کی طرف اٹھانے کا وقت آ گیا ہے تو اس ریزولیوشن کے بعد حکومت ہندوستان میں مزید تغیر کر دیا جائے اور وہ میرے نزدیک یہ ہو کہ علاوہ ان نائبسیکرٹریوں کے جو پہلی اسمبلی میں مقرر کئے گئے تھے- اس ریزولیوشن کے پاس ہونے کے بعد آٹھ میں سے (لیڈر آف دی ہاؤس کو ملا کر آئندہ آٹھ ممبر ہو جائیں گے)پانچ ایگزیکٹو ممبر ہندوستانی کر دیئے جائیں- نیز ان کا تعین بجائے موجودہ طریق کے اسی طرح دونوں مجالس کے منتخب پینل سے ہو جس طرح کہ میں نے سیکرٹریوں یا ممبروں کا نام سیکرٹری ہو جانے کی صورت میں نائب سیکرٹریوں کے لئے تجویز کیا ہے لیکن اسمبلی اور ایگزیکٹو کے تعلقات وہی رہیں جو پہلی کونسل میں تھے- یعنی یہ سیکرٹری (میری مراد ایگزیکٹو ممبر سے ہے( بھی اسی طرح گورنر جنرل کے سامنے جوابدہ ہوں جس طرح ایگزیکٹو ممبر ہوتے ہیں صرف اپنے اخلاقی دباؤ سے ملک کی رائے پر اثر ڈالیں- اسی طرح یہ مزید اختیار مرکزی مجالس کو دیا جائے کہ پہلی کونسل میں جن امور کے متعلق ان کا فیصلہ تین چوتھائی ووٹ سے لازمی ہوتا تھا اب ساٹھ فیصدی حقیقی (ABSOLUTE) اکثریت سے جو فیصلہ دونوں مجالس کر دیں بشرطیکہ قانون اساسی نان ووٹیبل امور یا ایگزیکٹو کے اختیارات سے تعلق نہ رکھتا ہو وہ فیصلہ انہی شرائط کے ساتھ جو پہلے بیان ہو چکی ہیں ایگزیکٹو کے لئے واجب العمل ہو- اس کے پانچ سال تک پھر کسی مزید امر کا فیصلہ کرنے کا مجالس کو اختیار نہ ہو- لیکن دوسرے پانچ سال کے گزرنے پر پھر دونوں مرکزی مجالس کو اختیار ہو کہ وہ تیسرے قدم کے اٹھانے کا ریزولیوشن تین چوتھائی ممبروں کی رائے سے پاس کریں جس کے بعد میرے نزدیک مزید اختیارات اسمبلی کو ملیں جو یہ ہوں- آئندہ سے گورنر جنرل رسپانسیبل منسٹری (RESPONSIBLE MINISTERY) بنائیں جس میں یہ شرط ہو کہ جس کے سپرد وزارت کا کام کیا جائے وہ کم سے کم دو انگریز ممبر سروسز میں سے اپنے ساتھ شامل کرے جن میں سے ایک فوج کے محکمہ کا انچارج ہو- ان کا انتخاب اس کے اختیار میں ہو لیکن وہ پابند ہو کہ سول سروس کے دو انگریز ممبروں کو ضرور شامل کرے- اس وقت سے وزارت پوری طرح مجالس کے ماتحت ہو اور صرف گورنر جنرل کو ویٹو کا اختیار ہو- یا مسودہ کو واپس نظر ثانی کے لئے بھیجنے کا اختیار ہو- پولیٹیکل اور فارن معاملات گورنر جنرل سے براہ راست متعلق رہیں اور ملٹری بجٹ نان ووٹیبل (NON VOTABLE)