انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 475

۴۷۵ رہے- باقی سب امور میں مرکزی مجالس کو پورا اختیار ہو- اس کے بعد بہت چھوٹی اصلاحات باقی رہ جائیں گی جو آہستگی سے ہوتی چلی جائیں گی- اور قانون ساز مجلس کے زور دینے پر ان میں خود بخود اصلاح ہوتی چلی جائے گی کیونکہ اس موقع پر پہنچ کر اسمبلی کا زور اس قدر ہو جائے گا کہ ملک کی کوئی صحیح خواہش بغیر پوری ہونے کے نہیں رہے گی- حکومت ہند اور صوبہ جات کا تعلق صوبہ جاتی آزادی کے بعد مرکز کا دخل صوبہ جاتی معاملات میں نہیں رہنا چاہئے اور رہنا ممکن بھی نہیں- یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر انتظام میں خرابی ہو تو اس کا کیا علاج ہوگا؟ کیونکہ یہی سوال مرکزی حکومت کے متعلق کیا جا سکتا ہے کہ اگر اس کا انتظام خراب ہوا تو اس کا کیا علاج ہوگا؟ انسانی کاموں کا یہی حال ہے کہ آخر ایک جگہ پر یہ اعتبار کیا جاتا ہے کہ ذمہ وار ٹھیک طور پر کام کریں گے- جب کونسلیں مقرر ہو جائیں گی اور ملک کی براہ راست نگرانی میں حکومت آ جائے گی تو پھر یہی سمجھنا چاہئے کہ مرکز کی ذمہ داری ادا ہو گئی- ہاں سوال ان امور کا رہ جاتا ہے جو مرکزی ہیں چونکہ ان میں سے بھی بہت سے امور کا عمل درآمد اگر فضول اخراجات سے بچنا ہو تو صوبہ جات کی حکومتوں کے ذریعہ سے ہوگا اس لئے صوبہ جات کی ایگزیکٹو ایسے تمام امور میں مرکزی حکومت کے ماتحت ہونی چاہئے اور ان احکام کی تعمیل میں اور ان کے متعلق معلومات بہم پہنچانے میں وہ پوری پابند ہونی چاہئے اور صوبہ جات کے گورنر اس امر کی نگرانی کے ذمہ وار ہونے چاہئیں کہ مرکزی امور کی تعمیل صوبہجات میں پوری طرح ہوتی ہے یا نہیں- یونائیٹڈ سٹیٹس میں اس غرض کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے الگ عہدہ دار ہیں- لیکن ہندوستان میں میرے نزدیک اس قدر علیحدگی کی ضرورت نہیں ہے-