انوارالعلوم (جلد 11) — Page 462
۴۶۲ مجالس کے انتخاب بالواسطہ تجویز کرتا ہے- تیسری دلیل کمیشن نے یہ دی ہے کہ عام ہندوستانی اسمبلی کے کاموں کی نگرانی نہیں کر سکتے- لیکن جب کونسل کے ممبر ہی اسمبلی کے ممبروں کو منتخب کریں گے تو انہیں خیال رہے گا کہ ہماری بھی کوئی نگرانی کر رہا ہے- یہ دلیل بھی اوپر کی دلیلوں کی طرح کمزور ہے کیونکہ کونسلوں کے ذریعہ سے انتخاب کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نگرانی اور بھی کم رہ جائے گی کیونکہ کونسلوں میں منتخب ہونے والوں کا نقطہ نگاہ بالکل اور ہوتا ہے اور اسمبلی میں منتخب ہونے والوں کا اور- کونسلوں کے ممبروں سے بہت زیادہ نگرانی وہ لوگ کر سکتے ہیں کہ جن کو مرکزی امور سے دلچسپی ہو- چنانچہ اس کا روزانہ تجربہ ہوتا رہتا ہے کہ اسمبلی میں پیش ہونے والے معاملات کی طرف جب کہ کونسلوں کے ممبروں کو کچھ بھی توجہ نہیں ہوتی عام پبلک میں سے ایک طبقہ میں اس کے متعلق ہیجان پیدا ہو رہا ہوتا ہے- علاوہ ازیں یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ پروپورشنل ریپریزنٹیشن سسٹم (PROPORTIONAL REPRESENTATION SYSTEM) کے مطابق وہی قوم اپنے نمائندے بھیج سکتی ہے جس کے امیدوار اس کے ووٹوں کے مطابق کھڑے ہوں- اگر ووٹر زیادہ ہو جائیں تو اس قوم کی نمائندگی کم ہو جاتی ہے- اب ہم فرض کرتے ہیں کہ پنجاب کونسل سے نمائندے چنے جانے لگے ہیں اور فرض کرتے ہیں کہ اسمبلی کے لئے کل تیس ممبروں کا انتخاب صوبہ کی طرف سے ہونا ہے- پس بوجہ مسلمانوں کی آبادی پچپن فیصدی ہونے کے ان کے حصہ میں سولہ ممبریاں آنی چاہئیں لیکن مسلمانوں میں سے کچھ ‘’زمیندارپارٹی’‘ میں ہیں اور کچھ ‘’نیشنلپارٹی’‘ میں جس میں ہندو ممبروں کی تعداد زیادہ ہے- اب یہ انتخاب کس اصول پر ہو گا- کیا مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے یا اپنی پارٹی کے ساتھ ووٹ دیں گے- اگر پارٹی کے ساتھ دیں گے تو مسلمان نمائندوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور اگر اپنی پارٹی کے مخالف امیدوار کو دیں گے کیونکہ وہ مسلمان ہے تو ایک تو اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ مخلوط انتخاب کے ذریعہ سے ہم بجائے سیاسی اصول کی قیمت بڑھانے کے اس کی قیمت کو کم کر دیں گے کیونکہ محض اس خوف سے کہ میرے ہم مذہبوں کے نمائندے کم نہ ہو جائیں ایک شخص اپنے سیاسی خیالات کو قربان کر دینے پر مجبور ہو گا- دوسرے اس طریق سے چنے ہوئے اسمبلی کے ممبر کی نگرانی بالکل نہ رہے گی- کیونکہ جس امیدوار کو اس کے مخالف الخیال