انوارالعلوم (جلد 11) — Page 463
۴۶۳ شخص نے صرف اس کے مذہب کی وجہ سے ووٹ دیا ہو گا وہ اس کی نگرانی کیونکر کر سکے گا- اسے تو امیدوار جواب دے گا کہ میاں تم نے اپنے ہم مذہب کے نمائندوں کی تعداد پوری کرنے کے لئے ووٹ دیا تھا میں نے کب تم سے وعدہ کیا تھا کہ تمہاری پالیسی کی اتباع کروں گا- لیکن جو شخص جداگانہ انتخاب میں اپنے ہم مذہب کے مقابلہ میں جیتے گا اس کے ووٹر اس سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ وہ کیوں ان کی مرضی کے مطابق کام نہیں کرتا- پس کمیشن کی تجویز پر عمل کر کے نگرانی ہرگز نہیں بڑھے گی بلکہ کم ہو گی- کمیشن کے دلائل کو رد کرنے کے بعد میں چند اور دلائل دیتا ہوں- جن کی بناء پر میرے نزدیک بالواسطہ انتخاب کا طریق نہایت خطرناک ہے اور خصوصاً مسلمانوں کے فوائد کے تو بالکل ہی خلاف ہے- (۱) سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں سے حکومت کا وعدہ ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر مخلوط انتخاب کو جاری نہیں کیا جائے گا اور اس وعدہ میں ہرگز کوئی شرط نہیں ہے کہ کونسلوں میں ان کو یہ حق ہو گا اسمبلی میں نہیں ہو گا- پس ‘’انتخاب مطابق تعداد’‘ جس کے معنی مخلوط انتخاب کے ہیں کسی صورت میں بھی مسلمانوں کی مرضی کے برخلاف جاری نہیں کیا جا سکتا اور اگر مسلمانوں کے نمائندے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں اس کو تسلیم بھی کر آئے تب بھی مسلمان پبلک اس کو ہرگز نہیں مانے گی- کیونکہ وہ بحیثیت جماعت اس اصل کو فوراً جاری کرنے کے سخت مخالف ہے اور اگر سائمن رپورٹ کی اس تجویز کی وہ مخالفت نہیں ہوئی جو نہرورپورٹ کی ہوئی تھی تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ عام طور پر مسلمان اس طریق انتخاب کو سمجھتے نہیں- وہ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ممبر مسلمان امیدواروں کو ووٹ دیں گے اور ہندو ہندوؤں کو- لیکن جس وقت مسلمان پبلک کو یہ معلوم ہوا جیسا کہ اب میری کتاب کے شائع ہونے پر ہو جائے گا کہ اس انتخاب کے معنی مخلوطانتخاب کے ہیں تو مسلمان ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کی مخالفت کریں گے اور اس میں کیا شک ہے کہ اسمبلی میں مخلوطانتخاب کا دروازہ کھول کر مسلمان کونسلوں میں بھی اپنے اس حق کو اصولاً کھو بیٹھتے ہیں- بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے مخلوط انتخاب میں وہ نقائص نہیں ہیں کہ جو عام مخلوط انتخاب میں ہیں کیونکہ اس میں ہر مذہب کے افراد مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے آدمیوں کو ووٹ دیں ورنہ ان کے اپنے ممبر کم ہو جائیں گے- لیکن یہ جواب درست نہیں کیونکہ اس