انوارالعلوم (جلد 11) — Page 461
۴۶۱ مجالس کا فائدہ کیا ہے- پھر لطف یہ ہے کہ کمیشن اس امر کی بھی امید رکھتا ہے کہ کونسل آف سٹیٹ میں زیادہ قابلیت کے آدمی مثلاً سابق وزراء، سابق جج، اعلیٰ عہدہ دار وغیرہ لانے چاہئیں اور وہ اس طرح کہ اس کی ممبری کی شرائط ایسی رکھی جائیں کہ اسی قسم کے لوگ آ سکیں- لیکن کمیشن نے اس امر کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے کہ صرف ایک ہی کونسل آف سٹیٹ دنیا میں ایسی ہے کہ جس کے ووٹر اور اسمبلی کے ووٹر ایک ہی ہوتے ہیں- لیکن یہ دوسری مجلس اپنے مقصد کے پورا کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے اور وہ آسٹریلیا کی دوسری مجلس ہے- لیکن چونکہ اختیارات اور فائدہ پہلی مجلس میں زیادہ ہوتا ہے اس لئے آسٹریلیا کے تمام قابل لوگ اسی کی ممبری کی کوشش کرتے ہیں- باقی سب دنیا کی مجالس میں دونوں مجلسوں کے ووٹروں کی قابلیتیں الگ الگ رکھی جاتی ہیں یا دوسری مجالس کو بعض خاص اختیارات دیئے جاتے ہیں کہ تا قابل لوگ ادھر متوجہ ہوں- مگر جہاں یہ دونوں صورتیں نہ ہوں وہاں یہ امید کرنا کہ قابل امیدوار کام کا اچھا میدان چھوڑ کر اور اسمبلی کے امیدواروں کے برابر تکلیف اٹھا کر کونسل آف سٹیٹ میں جائیں گے ایک ایسی خلاف عقل بات ہے جسے کوئی عقل مند تسلیم نہیں کر سکتا اور کمیشن کے تجویز کردہ اصل پر اگر کام ہوا تو ہندوستان کی کونسل آف سٹیٹ میں وہی لوگ جائیں گے جو یا تو اسمبلی کے انتخاب سے مایوس ہو چکے ہوں گے یا جن کی غرض صرف کسی نہ کسی ملکی مجلس کا ممبر کہلانا ہو گی- سائمن کمیشن نے اس امر کو بھی بالکل نظر انداز کر دیا ہے کہ دنیا کے تجربہ کردہ سیاسی اصول کے مطابق اتحادی طرز کی حکومت کے مرکز میں صرف علاقوں کے نمائندے نہیں ہونے چاہئیں بلکہ افراد اور علاقوں دونوں کے نمائندے ہونے چاہئیں کیونکہ مرکزی حکومت کا کام صرف ایسے قوانین پاس کرنا نہیں جن کا تعلق علاقوں سے ہو بلکہ وہ ایسے قوانین بھی پاس کرتی ہے جو افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں- پس دونوں کے نمائندے اس میں ہونے چاہئیں تاکہ دونوں کے حقوق محفوظ رہیں- لیکن کمیشن نے افراد کی نمائندگی کو بالکل اڑا دیا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی قابل وقعت نظام میں نہیں ملتی اور اس امر کو بھی نظر انداز کر دیا ہے کہ ایک لمبے تجربہ کے بعد یونائیٹڈ سٹیٹس میں ۳۱-مئی ۱۹۱۳ء کو سترھویں اصلاح کے ذریعہ سے دوسری مجلس کے انتخاب بھی براہ راست کر دیئے گئے ہیں- پس جب کہ دوسری دنیا تجربہ کے بعد دوسری مجالس کے انتخاب بھی بلاواسطہ کر رہی ہے سائمن کمیشن ہندوستان کے لئے دونوں