انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 447

۴۴۷ (EXECUTIVE) کا سردار ہونے کی حیثیت سے وزیر ہند سے جو خط و کتاب کرے گا وہ اس کا نائب ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ہندوستان کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کرے گا- غرض گو اس وقت درجہ نو آبادی دینے کا عملی نتیجہ یہ نکلے کہ فوراً ہی ہندوستان بہرجہت وہ آزادی حاصل کر لے جو ملک معظم کے ماتحت دوسری نو آبادیوں کو حاصل ہے لیکن بعض اصولی اور اہم فوائد اس سے حاصل ہونگے اور آئندہ کے لئے آخری مقام تک پہنچنے کے لئے کوئی روک باقی نہ رہے گی- (۲) قانونِ اَساسی اس فیصلہ کے ساتھ ہی کہ ہندوستان کو آئندہ سے درجہ نو آبادیات حاصل ہے اس قانون کا بھی جو ہندوستان کی اتحادی حکومت کے لئے بمنزلہ اساس رہے گا فیصلہ کر دینا چاہئے- یہ کہنا کہ ہمارا کیا ہوا فیصلہ ہمیشہ کے لئے ملک کو پابند کیونکر کر سکتا ہے درست نہیں- کیونکہ سب دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت کچھ لوگ مل کر ایک فیصلہ کر دیتے ہیں اور آئندہ کے لئے وہ قانون اساسی بن جاتا ہے- امریکہ کا قانون اساسی بھی چند ایسے لوگوں نے بنایا تھا جو ان معنوں میں ملک کے صحیح نمائندے نہیں کہلا سکتے تھے کہ ملک نے انہیں کثرت رائے سے اس غرض کے لئے منتخب کیا تھا لیکن ان کا بنایا ہوا قانون اساسی اب تک کام دے رہا ہے بلکہ آج تک امریکن قوم اسے اپنے لئے باعث فخر سمجھتی ہے- اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گو وہ لوگ اپنے زمانہ کے لوگوں کے بھی نمائندے نہ تھے لیکن انہوں نے قانون اساسی بناتے ہوئے دیانتداری سے اپنے ملک کی ضرورتوں کو معلوم کرنے کی کوشش کی اور ایک ایسا قانون بنا دیا جس سے وہ ضرورتیں پوری ہو سکتی تھیں- پس گو وہ لوگ ووٹوں کے ذریعہ سے نمائندے نہ تھے لیکن خیالات کی ترجمانی کے لحاظ سے وہ نمائندے بن گئے- دوسری بات یہ ہے کہ قانون اساسی گو ہمیشہ کے لئے ملک کو پابند کر دیتا ہے لیکن اس کی تبدیلی کی گنجائش بھی اس میں موجود ہوتی ہے- پس اگر اس میں کوئی سخت نقص ہو گیا ہو تو ملک کے لوگ اس کی اصلاح کرنے پر ہر وقت قادر ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ ملک کے لئے مضر نہیں ہو سکتا- ہاں فائدہ اس سے بے شک پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس کے بننے سے ایک ایسی شاہراہ تیار ہو جاتی ہے جسے ملک کے لوگ اپنے سامنے رکھ کر بغیر پریشانی کے آگے کی طرف قدم اٹھا