انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 446

۴۴۶ کی- خلاصہ یہ کہ فیڈرل اصول کے ماتحت ہندوستان کی مرکزی حکومت کا ڈھانچہ اسی وقت تیار ہو جانا چاہئے اور ہندوستان کو درجہ نو آبادیات کے ملنے کا اسی وقت اعلان ہو جانا چاہئے- اس سے ایک تو ہندوستان کی بے چینی دور ہو جائے گی اور دوسرے اقلیتوں کو اطمینان ہو جائے گا- مذکورہ بالا فرق کے علاوہ قانونی لحاظ سے بھی ہندوستان کے درجہ میں مندرجہ ذیل فرق پیدا ہو جائے گا- (۱) برطانوی پارلیمنٹ قانونی طور پر اس کا فیصلہ کر دے گی کہ ہندوستان تاج برطانیہ کے ماتحت کلی طور پر آزاد ہے- (۲) صوبہ جات کی عملی آزادی کو تسلیم کر لیا جائے گا- (۳) آئندہ نظام حکومت کے فیصلہ کا حق برطانیہ سے منتقل ہو کر ہندوستان کے صوبوں کو حاصل ہو جائے گا جس سے گویا عملاً بھی ہندوستان کو آزادی حاصل ہو جائے گی- (۴) حقیقی آزادی کی جدوجہد جو اصل میں ملک کے انتظام کی اندرونی درستی کا ہی نام ہے بے خدشہ ہو جائے گی- کسی دوسری طاقت کے اس میں دخل انداز ہونے کا خطرہ باقی نہیں رہے گا- (۵) ہندوستان کے نمائندے بطور ذاتی حق کے برطانوی ایمپائر کی کانفرنسوں میں شامل ہو سکیں گے- (۶) ہندوستان کا تعلق بجائے پارلیمنٹ کے وزارت کے توسط سے ملک معظم سے ہوگا- (۷) گورنروں کا عہدہ یا گورنر جنرل کا عہدہ سب کے سب آئینی ہو جائیں گے- (۸) چونکہ ہندوستان کی آزادی کی ترقی کا فیصلہ کسی اور طاقت کے ہاتھ میں نہیں رہے گا بلکہ ایک آئین کے ماتحت فی ذاتہ اس میں ترقی ہوتی چلی جائے گی اس لئے کسی افسر کو خواہ انگریز ہو خواہ ہندوستانی ہو اس کے راستہ میں روکیں پیدا کرنے کی جرات نہیں ہوگی اور سب کے سب مجبور ہوں گے کہ طوعا یا کرھا مقررہ راہ کی طرف قدم اٹھاتے چلے جائیں- (۹) گورنر جنرل آئندہ وزارت کا قائم مقام نہیں سمجھا جایا کرے گا بلکہ بادشاہ کا اور جب تک وزارت کونسلوں کے آگے جوابدہ نہیں ہوتی اس وقت تک وہ ایگزیکٹو