انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 448

۴۴۸ سکتے ہیں- تمام دنیا کا یہ تجربہ ہے کہ ناقص پروگرام، پروگرام کے بالکل نہ ہونے سے بہرحال اچھا رہتا ہے- پس ان حالات میں بہتر یہی ہے کہ آج ہی ہندوستان کے لئے ایک قانون اساسی تیار ہو جائے- ہندوستان کے قانون اساسی کے متعلق میں اپنی کتاب کے پہلے حصہ میں تفصیل کے ساتھ لکھ آیا ہوں اس لئے اب مجھے ان بحثوں میں دوبارہ پڑنے کی ضرورت نہیں- اس جگہ میں صرف ان امور کو بالاختصار بیان کر دیتا ہوں جن کا ذکر ہندوستان کے قانون اساسی میں ضرور ہونا چاہئے- (۱) اصول حکومت مکمل اتحادی ہو یعنی صوبہ جات کے ہاتھ میں سب اختیار رہیں سوائے ان اختیارات کے جو وضاحتا مرکزی حکومت کو دیئے گئے ہوں اور وہ اختیارات انہی امور کے متعلق ہوں جن کا اثر کل ہندوستان پر پڑتا ہے- (۲) مجالس واضع قوانین دو ہوں- لیکن یہ نہیں کہ دونوں مجلسیں ایک ہی کام کرنے والی ہوں بلکہ دوسری مجلس ایسے رنگ کی ہو کہ اس قسم کی مجلسوں کی جو غرض ہوتی ہے اس سے پوری ہو یعنی ایک مجلس افراد کی نمائندہ ہو اور دوسری علاقوں کی- (۳) اس میں مرکز کے لئے بھی اور صوبہ جات کی حکومت کے لئے بھی یہ شرط رکھی جائے کہ وہ مذہب پر عمل یا اس کی تبلیغ یا تعلیم یا مذہب بدلنے پر کسی قسم کی قید نہیں لگائیں گے- (۴) کسی قوم کی زبان یا اس کی تہذیب یا اس کی خوراک پر کسی قسم کی حد بندی نہیں کی جائے گی- (۵) مختلف صوبوں کے ساتھ سلوک میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا نہ مختلف افراد اور اقوام میں کوئی فرق کیا جائے گا- (۶) وہ مذاہب جن میں ایک معین اہلی قانون ہے اس میں دخل اندازی نہیں کی جائے گی سوائے اس کے کہ اس مذہب کے لوگ خود اپنے مذہب کی فقہ کو اس سوال کے متعلق قانون کے ماتحت لانا چاہیں- (۷) ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں اور مسیحیوں کو حتی الامکان ان کی تعداد کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں حصہ دینے کی کوشش کی جائے گی اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے گا جس میں کسی قوم یا مذہب کے افراد کو جو ہندوستان کے باشندے ہوں کسی ملازمت یا