انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 9

۹ کا نہیں ہے کیونکہ جو ہمارا ہے ہم اسے آج نہیں تو کل لے کر رہیں گے۔سوال یہ ہے کہ اس فتنہ کا اثر ہندوستان کی دو نہیں تین قوموں پر جنہوں نے چند سال کے لئے نہیں ہمیشہ ہندوستان میں رہنا ہے کیا پڑے گا؟ ٍمیں بتا چکا ہوں کہ میں مدتوں تک مذبح کے خلاف رہا ہوں۔نہ اس وجہ سے کہ میں مسلمانوں کا اس بارہ میں حق نہیں سمجھتا بلکہ اس وجہ سے کہ میرے نزدیک باوجود قانونی اور عقلی حق کے جہاں تک ہو سکے اپنے ہمسایہ کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔مگر میرے نزدیک ہمسایہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اس امر کا خیال رکھے کہ قربانی کرنا صرف دوسرے پر ہی واجب نہیں اس کا بھی فرض ہے کہ جب کسی دوسرے کو حقیقی اور مادی نقصان پہنچ رہا ہو وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھے اور مجھے کہ اس کا مذہب صرف اس کے اعمال پر حکومت کر سکتا ہے دوسرے مذہب کے پیروؤں پر اس کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔غرض گو میں اس وقت تک کہ اقتصادی حالت نے مجبور نہیں کرد یا مذبح کے خلاف رہا ہوں لیکن اب جب کہ اس طرح ظالمانہ طور پر اور امن عامہ کی ذرّہ بھر بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے قادیان اور اس کے نواحی علاقہ کے سکموں اور ہندوؤں نے مذبح گرا دیا ہے ذبیحہ گائے کا سوال ایک نئی صورت میں میرے سامنے آیا ہے۔اس واقعہ نے مجھ پر روشن کر دیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہی اصل قانون ہے اور اس کے بغیر اور کسی قانون کی حرمت ان کی نگاہ میں نہیں ہے۔اس تلخ حقیقت کو اس امرنے اور بھی نمایاں کر دیا ہے کہ مہابیر دَل نام کی ایک سوسائٹی کی طرف سے یہ اعلان ہوا ہے کہ اگر ذبیحہ گائے کی اجازت مل گئی تو اس کے ممبر دوبارہ بھی جبر اور تعدّی سے اس کام کو روکنے سے باز نہیں رہیں گے۔ٍ میرے نزدیک موجودہ حالات نے مسلمانوں کو پہلے سے بھی زیادہ مجبور کر دیا ہے کہ وہ گائے کے ذبح کرنے کے حق کو استعمال کریں۔اور جہاں یہ حق حاصل نہ ہو وہاں اس کے حاصل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ پہلے تو اقتصادی حالت کا ہی تقاضا تھا۔کہ وہ گائے کے گوشت کو استعمال کریں اب مذہبی اور اخلاقی حالات بھی اس کا مطالبہ کرنے لگ گئے ہیں۔نہیں اس طرح کہ اسلام میں کسی وجود کا حد سے بڑھ کر احترام شرک ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔کہ بنی اسرائیل چونکہ فرعو نیوں میں رہتے تھے جن میں کہ گائے ایک مقدس