انوارالعلوم (جلد 11) — Page 10
۱۰ وجود سمجھا جاتا تھا اس وجہ سے ہمسائیوں کے خیالات کے بد اثرات سے بچانے کے لئے انہیں گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔پس جب کہ ہندو صاحبان مسلمانوں کو مجبور کرنے لگے ہیں کہ وہ کسی صورت میں بھی گائے ذبح نہ کیا کریں تو ہمیں ڈر ہے کہ مسلمانوں کی آئندہ نسلیں آہستہ آہستہ گائے کا ناواجب احترام کرنے لگیں گی اور جس طرح انہوں نے اور کئی بد رسوم ہندوؤں کی اختیار کر لی ہیں گائے کی عزت بھی مُشرکانہ طور پر ان کے دل میں جاگزیں ہو جائے گی۔اور یہ ایک خیالی خطرہ نہیں ہے۔بلکہ سکھوں میں اس کی نظیر ملتی ہے۔سکھ لوگ موحّد ہیں اور مشرکانہ خیالات ان کے اصول مذہب کا جزو نہیں ہیں لیکن باوجود اس کے چونکہ ہندوؤں سے ان کی رسوم ملتی تھیں ان سے رشتہ ناطہ کا تعلق رکھنے کی خاطر انہوں نے گائے کا کھانا ترک کر دیا۔اب گو وہ کہتے تو یہی ہیں کہ گائے کی عزت ہمارے مذہب کا جزو نہیں صرف اقتصادی طور پر ہم اس کے ذبح کرنے کے مخالف ہیں لیکن حق یہی ہے کہ ان کے دلوں میں آہستہ آہستہ اس کی عزت گھر کر چکی ہے ورنہ اقتصادی طور پر گائے کی حفاظت کا خیال مسلمانوں میں زیادہ ہونا چاہئے تھا جن کے زمینداروں کی تعداد پنجاب میں سکھوں سے بہت زیادہ ہے۔ٍ پھر یہ اقتصادی سوال عقلا ًبھی درست نہیں۔یورپ کے لوگ گائے کا گوشت کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور ان کے ملک کی گائے ہمارے ملک کی گائے سے بہت اچھی ہوتی ہے۔اور گائے کی تعداد کو بھی بے روک گاؤ کشی نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس ملک میں جس جانور کی کھپت زیادہ ہو گی اس کی پیدائش بھی زیادہ ہو جائے گی کیونکہ اس کے فوائد کی کثرت کی وجہ سے اس کی قدر بڑھ جائے گی اور لوگ اسے زیادہ پالنے لگیں گے۔گائے کی حفاظت گاؤ کشی کے روکنے سے ہرگز نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی نسل کشی کی طرف توجہ کرنے سے ہو گی- یو - پی جس میں کثرت سے گائے ذ بح ہوتی ہے وہاں گائے کی تعداد اس کی نسل کی عمدگی میں پنجاب کی نسبت جہاں کہ بہت سی روکیں ہیں ، کوئی کمی نہیں آئی۔اخلاقی طور پر بھی اس جبر کی وجہ سے یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کیونکہ جبر کے ماتحت کسی امر سے رُکنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔بس اب جب کہ جبر اور تعدّی سے کام لیا گیا ہے اور آئندہ کے لئے بھی دهمکی دی گئی ہے ہر مسلمان کا فرض ہو گا کہ وہ