انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 8

۸ چیزوں کے استعمال کرنے کی پوری آزادی ہو اور ہندوؤں اور سکھوں کو ان کی مرغوب چیزوں کے استعمال کی۔ہاں بغیر آزادی کو محدود کرنے کے دوسرے کے احساسات کا جس قدر خیال رکھنا ممکن ہو رکھا جائے۔جب تک ہندو مسلمان اور سکھ اس اصل کی پابندی نہیں کریں گے کبھی امن نہیں ہو گا اور کبھی نہیں ہو گا۔اب میں پھر واقعات کی طرف آتا ہوں۔حکام ضلع کی منظوری کے بعد مذبح قائم ہو گیا۔اور جب کہ میں کشمیر آیا ہوا تھا۔میرے پیچھے ہی اس میں ذبیحہ بھی شروع ہو گیا۔اس پر جیسا کہ مجھے باقاعدہ رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے قادیان سے بعض ہندو جو شروع سے ہی مذبح کے خلاف آس پاس کے گاؤں میں سکھوں اور ہندوؤں کو اکسارہے تھے۔انہوں نے خوب لوگوں کو جوش دلایا اور آخر سات اگست ۱۹۲۹ء کو سکھوں اور ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد نے پولیس کی موجودگی میں مذبح گرا دیا اور اینٹوں تک کے ٹکڑے کر دے۔احمدیہ جماعت موقع پر مقابلہ سے مجتنب رہی ورنہ اپنی طاقت اور قوت کے لحاظ سے اور قریب کے دیہات کی مزید مدد کے ساتھ وہ اس قابل تھی کہ حملہ آوروں کو ایسا تلخ جواب دیتی کہ انہیں مدتوں تک یاد رہتا مگر انہوں نے امن پسندی کو اور قانون کے احترام کو اپنے ہوش پر مقدم کیا۔لیکن افسوس ہے کہ اس امن پسندی کا جواب عام طور پر ہندو اخباروں کی طرف سے نہایت ہی قابل شرم ملا ہے۔انہوں نے بجائے اس کے کہ اپنے ہم مذہبوں کے ناجائز رویہ پر اظہار افسوس کرتے خلاف بیانی اور مغالطہ دہی سے ان کی تائید کرنی شروع کی اور انہیں اور بھی اکسایا۔اور بجائے اس کے کہ انہیں ملامت کرتے، ان کی اور بھی پیٹھ ٹھونکی اور اس قدر شور برپا کیا کہ اس سے متاثر ہو کر گورنمنٹ کے بعض افسر بھی ڈر گئے اور انہوں نے سخت قابلِ اعتراض رویہ اختیار کیا۔بعض سکھ لیڈروں کا قابلِ تعریف رویہّ لیکن اس کے مقابلہ میں سکھوں کے بعض لیڈروں اور ان کے بعض اخبارات نے نہایت قابل تعریف رویّہ اختیار کیا اور فساد سے پہلے بھی سکھوں کو اس میں شمولیت سے روکا۔اور بعد میں بھی ان لوگوں کے فعل کو جنہوں نے مذبح گرایا تھا نا پسند کیا۔اس وقت کمشنر صاحب کے سامنے اپیل پیش ہے اور میں نہیں جانتا کہ وہ کیا فیصلہ کریں۔لیکن ان کا موجودہ رویہ بہت ہی قابل اعتراض ہے۔مگر اس وقت سوال ان کے فیصلہ