انوارالعلوم (جلد 11) — Page 283
۲۸۳ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جب ایک اقلیت اور اکثریت کے درمیان مذکورہ بالا امور مابہالنزاع ہوں تو اقلیت ہر گز اکثریت کی مرضی پر چلنے کیلئے مجبور نہیں کی جا سکتی- اور میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ ہندوستان میں اقلیت اور اکثریت کا اختلاف اسی قسم کا ہے- کیا تجربہ رواداری سکھا دے گا؟ مذکورہ بالا دو گروہوں کے علاوہ ایک تیسرا گروہ بھی ہے جس کا یہ خیال ہے کہ بے شک اقلیت کے حقوق کی حفاظت ہونی چاہئے لیکن اس کا یہ طریق نہیں کہ قوانین کے ذریعہ سے اس کی حفاظت کی جائے- رواداری تجربہ اور ذمہ واری سے خود بخود آ جاتی ہے- پس بغیر کسی حفاظت کی تدبیر کے ملک میں ایک آزاد نظام حکومت قائم کر دینا چاہئے- اکثریت یا اقلیت جس میں بھی نقص ہو ایک دوسرے سے واسطہ پڑنے پر خود بخود اس کی اصلاح ہو جائے گی اور طبائع آپس میں مل جائیں گی- یہ نقطہ نگاہ ہندوؤں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے- اگر دو قوموں میں ادنیٰ سا اختلاف ہو اور وہ امور جن کی نسبت خطرہ ہو معمولی ہوں تو ایک طریق اصلاح کا وہ بھی ہے جو اوپر بیان ہوا- لیکن سوال یہ ہے کہ جب اقلیت اور اکثریت کا اختلاف اس قسم کا ہو کہ ایک دوسرے کو کچلنا چاہے تو کیا پھر بھی یہ علاج کامیاب ہو سکتا ہے؟ اگر تجربہ سے یہ معلوم ہو کہ ایک قوم دوسری قوم کو کھاتی جاتی ہے تو پھر کس طرح اعتبار کیا جا سکتا ہے کہ اکٹھے رہنے سے ایک کو دوسری سے خطرہ نہیں ہوگا پھر اگر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ اقلیت اور اکثریت زندگی کے کئی شعبوں میں اکٹھی رہتی چلی آئی ہیں لیکن باوجود اس اکٹھا رہنے کے اکثریت اقلیت کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آئی تو کس طرح یقین کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ زیادہ اہم امور میں اکٹھا رہنے سے اکثریت اقلیت سے ایسا سلوک نہیں کرے گی- غرض اگر اختلاف معمولی ہو تو بے شک یہ جرات کی جا سکتی ہے کہ دونوں قوموں کو کچھ عرصہ کے لئے اکٹھا چھوڑ دیا جائے اور انتظار کیا جائے کہ سیاست خود مروت سکھا لے گی لیکن جب کہ اختلاف اہم ہو اور ایک قوم دوسری کو کھانے کی عادی ہو چکی ہو تو پھر محض امید موہوم پر ایک قوم کو تباہی کے گڑھے میں نہیں دھکیلا جا سکتا- یہ ثابت کر چکنے کے بعد کہ جب اقلیت کو اہم امور میں اختلاف ہو جسے وہ قربان نہ کر سکتی ہو تو اس سے اکثریت کے حکم پر سر جھکانے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا اور اس طرح جب اکثریت کے عمل سے اور ارادہ سے ثابت ہو جائے کہ وہ اقلیت کو نقصان پہنچاتی رہی ہے اور