انوارالعلوم (جلد 11) — Page 268
۲۶۸ کو خود لڑواتی ہے تا کہ کبھی بھی ہندوستان آزاد نہ ہو سکے- اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں شدید اختلاف ہے- ایسا شدید کہ ہر بہی خواہ ِ ملک اسے دیکھ کر تکلیف محسوس کرتا ہے- میں جب کبھی اس اختلاف پر غور کرتا ہوں تو میرا دل حسرت و اندوہ سے بھر جاتا ہے لیکن حسرت واقعات کو نہیں بدل سکتی- مگر یہ امر بھی درست نہیں کہ اس کا موجب انگریز ہیں اور یہ کہ وہ جان بوجھ کو ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑواتے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ انگریزوں میں کوئی برا نہیں- ان میں بھی اسی طرح برے لوگ ہیں جس طرح ہندوستانیوں میں ہیں- بالکل ممکن ہے کہ ان میں سے بعض ہندو مسلمان کو لڑواتے بھی ہوں جس طرح کہ بعض ہندوستانی اپنے بھائیوں کو لڑواتے ہیں- لیکن میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ ایک قوم کی قوم جو دانائی اور انسانی ہمدردی میں ایک قابل تقلید نمونہ دکھا رہی ہو اخلاق میں اس قدر گر گئی ہو کہ اس کے تمام افراد یا اکثر افراد دو قوموں میں لڑائی کروا کے تماشہ دیکھتے ہوں- اگر ہندوستان کے کسی ایک مقام پر ہندو مسلمان میں فساد ہوتا تو میں سمجھتا کہ کسی انگریز افسر کی کارروائی ہے- پھر اگر صرف ان علاقوں میں فساد ہوتا جو براہ راست انگریزوں کے ماتحت ہوتے ہیں تو میں ایسا سمجھ لیتا لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ ہندو مسلمانوں میں فساد ہندوستانی افسروں کے ماتحت بھی ہوتا ہے بلکہ شاید زیادہ ہوتا ہے- اور ریاستوں میں بھی ہوتا ہے جن میں انگریزوں کی سیاست براہ راست کام نہیں کر رہی ہوتی- پھر باوجود ان حقائق کے انگریزوں پر فسادات کا الزام لگانا کسی طرح شرافت نہیں کہلا سکتا اور میرے نزدیک اس قسم کا الزام لگانے والے صرف اپنی گندی فطرت کا ثبوت دیتے ہیں- اگر یہ فساد انگریز کروا رہے ہیں تو وہ فسادات اور مظالم جو سکھوں کی طرف سے مسلمانوں پر سکھ حکومت کے زمانہ میں ہوتے تھے یا وہ خانہ جنگیاں جو سیواجی نے اورنگ زیب کے زمانہ میں کیں اور وہ قتل عام جو اس کے ہاتھوں مسلمانوں کا ہوا اس کا ذمہ وار کون تھا؟ جب انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندومسلم فسادات شروع ہو چکے تھے- اور جب اسلامی حکومت کے تنزل کے زمانہ سے ہی ہندو مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کی فکر میں لگ گئے تھے تو اس الزام کو انگریزوں پر عائد کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ یہ میں تسلیم کر لوں گا کہ جس طرح ہمارے مختلف میلان ہوتے ہیں انگریزوں کے بھی مختلف میلان ہوتے ہیں- جو انگریز شروع ملازمت میں ایسے علاقہ میں لگتا ہے کہ جس میں