انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 267

۲۶۷ اس کے ماتحت لوگوں کا علم اول تو بڑھتا نہیں اور اگر بڑھتا ہے تو نہایت ہی سست رفتار سے’‘-۹؎ انگلستان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس خواہش کے پیدا کرنے میں خود اس کا بھی بہت کچھ حصہ ہے اور دوسرے لوگ اس کی اس کوشش کی قدر کریں یا نہ کریں میں اس کیکوشش کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے لوگ اس کے ممنون ہوں- بہرحال جب کہ انگلستان نے یہ خواہش ہندوستانیوں کے دلوں میں پیدا کی ہے پھر ۱۹۱۹ء کے انڈیا ایکٹ کے ذریعہ اس خواہش کو اور بھی تیز کر دیا ہے تو وہ اب کسی صورت میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا- اسے وہ الفاظ یاد رکھنے چاہئیں جو اس کے سب سے بڑے آئین اساسی کے ماہر نے جس کے کئی حوالے میں پہلے نقل کر چکا ہوں کہے ہیں- وہ لکھتے ہیں-: ‘’قوموں پر ایسے وقت آیا کرتے ہیں کہ جب آگے بڑھنا کھڑے ہونے سے بہرحال بہتر ہوتا ہے جب کہ اختیارات دینا زیادہ دانشمندی کے مطابق ہوتا ہے- خواہ ان کے غلط استعمال کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو- بہ نسبت اس کے کہ اختیارات کو روک کر بے چینی پیدا کی جائے’‘-۱۰؎ میں انگلستان کا ایک خیر خواہ ہونے کی حیثیت سے جس نے بمعہ اپنی جماعت کے ہر فتنہ اور فساد کے موقع پر قیام امن کی اہم خدمات انجام دی ہیں اور جو اس وقت بھی بائیکاٹ وغیرہ کا مقابلہ کر رہا ہے، اسے بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں یہ وقت آ گیا ہے اور اب اسے وہ تجربہ کرنے دینا چاہئے جس کے لئے وہ فی الحقیقت بے تاب ہو رہا ہے- اگر وہ وقت نہ آ چکا ہوتا تو کانگریس کی خلاف اخلاق اور خلاف عقل تجاویز کبھی بھی ملک میں کامیاب نہ ہوتیں- ان کی وسیع کامیابی بتا رہی ہے کہ ملک کے ایک کافی حصہ کی دماغی کیفیت ہندوستان کی آزادی کے سوال کے متعلق اپنا توازن کھو چکی ہے- کیا ہندو مسلم اختلاف کی موجودگی میں ہندوستان کو آزادی دی جا سکتی ہے؟ جب کبھی ہندوستان کی آزادی کا سوال پیدا ہوتا ہے- بعض لوگ یہ سوال اٹھا دیا کرتے ہیں کہ ہندوستان میں مختلف اقوام میں اس قدر اختلاف ہے کہ انہیں حکومت دینا گویا انہیں تباہ کرنا ہے لیکن بعض لوگ اس کے مقابلہ میں یہ کہا کرتے ہیں کہ حکومت ہندوؤں اور مسلمانوں