انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 269

۲۶۹ مسلمان مضبوط اور کام کرنے والے ہوں وہ مسلمانوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو ہندوؤں کے علاقہ میں مقرر ہوتا ہے وہ زیادہ تر ہندوؤں کی طرف مائل ہو جاتا ہے مگر یہ ایک ایسا طبعی امر ہے کہ جس سے کوئی قوم بچ نہیں سکتی- انسانی مدنی الطبع ہے اور جن لوگوں سے اسے زیادہ ملنے کا موقع ملتا ہے وہ ان کی طرف طبعاً زیادہ مائل ہوتا ہے- اس سے بڑھ کر بحیثیت قوم انگریزوں پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا اور یہ کوئی قصور نہیں- اور اگر ہے تو اس کا فائدہ زیادہ تر اس الزام کے لگانے والے یعنی ہندو ہی اٹھاتے ہیں کیونکہ انہی کی اس ملک میں کثرت ہے- اسی وجہ سے انگریز زیادہ تر انہی کی طرف مائل ہوتے ہیں- اصل حقیقت یہ ہے کہ ان فسادات کا اصل موجب ہندو دماغ کی بناوٹ ہے- ہندو بوجہ چھوت چھات اور قومی برتری کے خیال کے دوسری اقوام سے مل کر کام کر ہی نہیں سکتا سوائے اس کے کہ اسے یہ یقین ہو کہ یہ قوم مجھ پر برتری نہیں حاصل کر سکتی- یہ خیالات اسے ورثہ میں ملے ہیں اور ان کے دور کرنے کے لئے محنت درکار ہے جس کے لئے افسوس ہے کہ ہندولیڈر بوجہ غالباً اس سے زیادہ اہم امور یعنی ہندوستان کے لئے آزادی حاصل کرنے کی طرف توجہ دینے کے ابھی فرصت نہیں نکال سکے لیکن اپنے قصور کو دوسری قوم پر تھوپنا ایک صریح ظلم ہے- بہرحال میں اس سوال کے متعلق آگے چل کر تفصیل کے ساتھ لکھوں گا سردست میں صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ اختلافات ضرور موجود ہیں اور نہایت خطرناک صورت میں- اور ان کی ذمہ واری انگریزوں پر نہیں بلکہ ہندؤوں پر ہے لیکن باوجود اس کے ہندوستان کو آزادی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا- اس میں کوئی شک نہیں کہ اختلافات کی موجودگی میں رسپانسیبل گورنمنٹ (RESPONSIBLE GOVERNMENT)کے راستہ میں سخت روک ہوتی ہے- لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رسپانسیبل گورنمنٹ کے بغیر اس قسم کے اختلافات مٹ بھی نہیں سکتے- ہندوؤں میں اختلاف پیدا کرنے کا مادہ اس لئے ہے کہ وہ ہزار سال سے حکومت کے مفہوم سے ناواقف ہیں- جب کہ انگریز اس وقت حکومت کر رہے ہیں اور مسلمان ابھی قریب کے زمانہ میں حکومت کر چکے ہیں اور اب بھی ان کے بھائی بند آزاد ممالک میں حکومت کر رہے ہیں- پس وہ جانتے ہیں کہ ترقی جس قدر ایک ملک کے باشندوں میں صلح سے حاصل ہو سکتی ہے جنگ سے نہیں ہو سکتی- لیکن ہندو بوجہ ایک عرصہ سے حکومت سے محروم ہونے کے خیال