انوارالعلوم (جلد 11) — Page 260
۲۶۰ اور جب کہ انگلستان ہندوستان کو سلف گورنمنٹ دینے کا وعدہ کر چکا ہے جو کہ آئینی ارتقاء کی آخری منزل ہے تو پھر ڈومینین سٹیٹس کی وہ کونسی بات رہ گئی جو اسے اس وعدہ کے مطابق نہیں مل سکتی- اوپر کے حوالہ جات سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ انگلستان صاف طور پر ہندوستان کو رسپانسیبل گورنمنٹ یا ڈومینین سٹیٹس دینے کا وعدہ کر چکا ہے اور اب اپنے اعلان سے پیچھے ہٹنا اس کے لئے اخلاقاً بالکل ناجائز ہے اور اسے اس قسم کا مشورہ دینے والے لوگ اس کی عزت کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں- اب میں دوسرے سوال کو لیتا ہوں کہ کیا ہندوستان سیاسی طور پر آزادی کا مستحق ہے؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب بھی اثبات میں ہے- سیاسی استحقاق دو طرح حاصل ہوتے ہیں- یا خدمت سے یا قابلیت سے- ہندوستان نے جنگ عظیم کے موقع پر انسانی آزادی کے قیام کے لئے ایک بے نظیر قربانی کر کے اپنے اس حق کو ثابت کر دیا ہے- جنگ کے دوران میں برطانیہ کے وزراء بار بار ہندوستانیوں سے اپیل کرتے تھے کہ دول متحدہ دنیا کی آزادی کو برباد کرنا چاہتی ہیں اور انہیں اس برے ارادہ سے روکنے کے لئے ہندوستان کو انگلستان کی مدد کے لئے کھڑا ہو جانا چاہئے- ہر اک شخص جانتا ہے کہ ہندوستان نے اس آواز کا جواب کس شاندار طور پر دیا- دس بارہ لاکھ آدمی کا مہیا کر دینا معمولی بات نہیں خصوصاً جب کہ ہندوستان کو اس جنگ سے کوئی ذاتی سرورکار نہ تھا- ایک محکوم قوم کو انتخاب کے لئے کوئی وسیع میدان حاصل نہیں ہوتا وہ ایک محکومی اور دوسری مملوکی میں چنداں فرق نہیں کرتی پس عام ہندوستانی اس امر کے سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتا تھا کہ انگریزی غلبہ اور جرمن غلبہ میں کچھ فرق ہے اس کے لئے یہ دونوں باتیں برابر تھیں- مگر پھر بھی پرانے تعلقات کو گو وہ محکومی کے تعلقات تھے اس نے محبت کی نگاہ سے دیکھا اور ان کے توڑنے کو پسند نہ کیا اور اپنا سب کچھ حکومت کے قدموں پر لا کر نثار کر دیا- اس قربانی کو آج کی اطمینان کی حالت کے اثر کے نیچے نہ دیکھو ان حالات کو سامنے لا کر دیکھو جب ہر وقت ڈوور۳؎ کی بندرگاہ کی طرف انگلستان کی نگاہ لگی رہتی تھی اور جب انگلستان کی بہادر عورتیں ہر رات اس خوف میں سوتی تھیں کہ یہ رات ان محُبّانِ وطن کے لئے جو فرانس کے میدان میں اپنے وطن کی حفاظت کے لئے بے حفاظت کھلے میدان میں پڑے ہیں کیا پیغام لاتی ہے؟ جب ہر صبح شادی شدہ عورتیں دھڑکتے ہوئے دلوں