انوارالعلوم (جلد 11) — Page 259
۲۵۹ سے ڈومینین سٹیٹس مراد نہیں، درست نہیں- اس وعدہ سے صاف ظاہر ہے کہ ایگزیکٹو بھی ہندوستانیوں کو دے دی جائے گی اور صوبہ جات کو بھی پوری آزادی دے دی جائے گی- اور اس طرح آزادی دیتے دیتے مرکزی حکومت ہند کو بھی اس آزادی کے مقام پر پہنچا دیا جائے گا کہ تاج برطانیہ سے علیحدگی کے حق کے علاوہ سب اختیارات اسے حاصل ہونگے- لیکن اگر ہم اس تفصیل میں نہ بھی پڑیں تو بھی خود مختار حکومت کے معنی ڈومینین سٹیٹس کے ہی ہیں- اور اصول آئین کے علماء اس کے یہی معنی کرتے چلے آئے ہیں- چنانچہ مثال کے طور پر میں D۔H۔P۔A۔M۔Strong۔F۔C Doctorکی کتاب Modern Political Constitutionsکا ایک حوالہ نقل کرتا ہوں- وہ لکھتے ہیں- ‘’ایک خود مختار نو آبادی وہ ہے جسے نیابتی حکومت حاصل ہو اور جسے نیابتی حکومت کہتے ہیں وہ عملی سیاست میں صرف اس امر کا نام ہے کہ ان نو آبادیوں میں وزارت کو ملکی نمائندوں کے تابع کر دیا جائے جہاں کہ اس سے پہلے وہ برطانوی حکومت کے تابع ہوا کرتی تھی کیونکہ نیابتی حکومت کے صرف یہ معنی نہیں کہ وہ نوآبادی جسے اس قسم کی حکومت حاصل ہو اپنے لئے اپنے فائدے کے مطابق قانون وضع کرنے میں آزاد ہے بلکہ یہ بھی کہ اس کی وزارت آئندہ پوری طرح اور براہراست ملک کے منتخب نمائندوں کے ماتحت ہوگی- ۱؎ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اصول آئینی کے ماہرین کے نزدیک رسپانسیبل (RESPONSIBLE)گورنمنٹ کے صرف یہ معنی نہیں کہ کسی ملک کو اپنے معاملات کے متعلق قانون سازی کا اختیار کلی طور پر مل جائے بلکہ یہ بھی کہ ایگزیکٹو پوری طرح اور براہ راست ملک کے منتخب نمائندوں کے ماتحت ہو اور کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ کسی ڈومینین کو اس سے زیادہ اختیار حاصل ہے- دوسرا حوالہ میں مسٹر وڈروولسن سابق پریذیڈنٹ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کا پیش کرتا ہوں- جو سلف گورنمنٹ کے متعلق ہے- وہ اپنی کتاب۔States United the in Government Constitutionalمیں لکھتے ہیں-: ‘’نیابتی حکومت آئینی طریق حکومت کی آخری منزل ہے’‘- ۲؎