انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 261

۲۶۱ کے ساتھ اٹھتی تھیں اور پہلا خیال ان کے دلوں میں یہ ہوتا تھا کہ کیا اب بھی وہ سہاگ کی حالت میں ہیں یا بیوہ ہو چکی ہیں- جب حیران و ششدر بچے اپنی ماؤں کا منہ تکا کرتے تھے کہ کس مصیبت نے ان کے چہروں کو زرد اور ان کی آنکھوں کو بے کیف کر رکھا ہے اور حیران ہوتے تھے کہ ان کے والد کو کیا ہو گیا ہے کہ واپس ہونے کا نام ہی نہیں لیتا- جب مائیں اپنے بچوں کو حسرت و اندوہ سے تھپکی دیا کرتی تھیں جنہوں نے کبھی اپنے باپ کا منہ نہ دیکھا تھا اور نہ آئندہ دیکھنے کی امید تھی- جب ارباب حل و عقد جمع ہوتے تھے تو ان کا پہلا سوال یہ ہوتا تھا کہ اب آئندہ کیا ہونے والا ہے؟ جب انگلستان کی آزاد روح جس نے سات سو سال کی متواتر جدوجہد کے بعد حقیقی آزادی حاصل کی تھی اپنی سب سے عزیز چیز کو ہاتھوں سے جاتا ہوا دیکھتی تھی- ہاں جس وقت ایک مسکراہٹ خدمت اور ایک کلمہ تعریف وفاداری کہلاتا تھا- اس ماحول کو اپنے ذہن میں دوبارہ پیدا کر کے، ان خطرات کو سامنے لا کر، ان امیدوں کو جگا کر، ان بے کسیوں کی یاد کو تازہ کر کے پھر سوچو کہ محکوم ہندوستان جس پر اس جنگ کا کوئی بھی اثر نہیں تھا اس نے کس بہادری اور کس دلیری سے اس نازک موقع پر انگلستان کی مدد کی- جانے دو احمدیہ جماعت کو کہ وہ خوشامد پسند اور فطرتی وفادار مشہور ہے- گاندھی ہی کو دیکھو کہ وہ پیدائشی عدم تعاون کرنے والا شخص بھی اس وقت انگلستان کے لئے ریکروٹ مہیا کرنے کی خدمت میں لگا ہوا تھا اور ہندوستان کی جنگی قومیں اپنے جگر گوشے نکال نکال کر انگلستان کی آزادی کے قیام کے لئے دے رہی تھیں- اب جب کہ وہ خطرہ گزر گیا ہے بعض انگریز کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہندوستانیوں نے روپیہ کے لئے کیا- لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کیا انگریز فاقے کرکے لڑا کرتے تھے اور حکومت کا کوئی خرچ نہیں کرایا کرتے تھے؟ جو لڑے گا وہ کچھ خرچ بھی کرائے گا- باقی جان روپیہ سے نہیں خریدی جاتی- ہاں چند اپنی زندگی سے مایوس ہو کر روپیہ کی خاطر جان دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے لیکن ملکوں کے ملک کبھی روپیہ کے لئے اپنی جان بیچنے کو تیار نہیں ہوا کرتے- اور اگر تنخواہ لالچ کو ظاہر کرتی ہے تو ائتلافی ہوں یا اتحادی ان کے سب آدمی لالچ ہی سے کام کیا کرتے تھے- ہندوستان نے کس جوش سے اس موقع پر انگلستان کا ساتھ دیا- اس کا جواب میں اپنے دوست سر مائیکل اوڈوائر ( SIR MICHAEL O, DWYER)کے الفاظ میں دیتا ہوں- جو اس وقت پنجاب کے جو درحقیقت ہندوستان کا ایک ہی جنگی صوبہ ہے لفٹیننٹ گورنر تھے-