انوارالعلوم (جلد 11) — Page 253
۲۵۳ باب دوم ایشیائی ممالک میں نیابتی حکومت کمیشن نے رپورٹ کے حصہ دوم کی تمہید میں اس کا ذکر کیا ہے کہ ہندوستان میں مغربی اصول پر آئین- حکومت کا تجویز کرنا بالکل درست نہیں کیونکہ جو آئین کہ سینکڑوں سال کے تجربہ کے بعد ایک مغربی ملک کے باشندوں نے تجویز کیا ہے وہ آسانی سے ایک ایسے مشرقی ملک پر چسپاں نہیں ہو سکتا جہاں کہ ہزاروں سال تک خود مختار حکومت کا دور دورہ رہا ہے- گو کمیشن نے کسی ایک جگہ اس مضمون پر تفصیلی بحث نہیں کی لیکن مختلف مقامات پر اس کی طرف اشارہ کیا ہے- اور چونکہ علاوہ کمیشن کے بہت سے یورپین مصنف بھی اس کی طرف اپنی کتب میں توجہ دلاتے رہتے ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس سوال کے متعلق بھی کچھ لکھوں کیونکہ جب تک انسان کے دل کی وہ گرہیں نہ کھل جائیں جن کی وجہ سے وہ کسی خاص مضمون کو سمجھنے کے ناقابل ہو اس وقت تک خواہ وہ سمجھنے کی کوشش بھی کرے اس مضمون کو نہیں سمجھ سکتا- اگر کمیشن کا یہ مطلب ہے کہ انگلستان کا نظام اپنی مکمل صورت میں ہندوستان میں جاری نہیں کیا جا سکتا تو میں اس میں کمیشن کی رائے سے بالکل متفق ہوں لیکن اس میں مشرقومغرب یا کسی پرانی یا نئی روایت کا ہر گز کوئی تعلق نہیں- کسی ملک کے تجویز کردہ آئین بھی کسی دوسرے ملک میں خواہ وہ کسی پرانی یا نئی روایت کا ہر گز کوئی تعلق نہیں- کسی ملک کے تجویز کردہ آئین بھی کسی دوسرے ملک میں خواہ وہ اس پہلے ملک سے خیالات میں انتہائی درجہ کا متحد ہی کیوں نہ ہو پوری طرح جاری نہیں ہو سکتے- انگلستان کا آئین ہندوستان کے لئے ہی ناقابل قبول نہیں بلکہ فرانس اور جرمنی نے بھی اسے اپنے ملک میں جاری نہیں کیا اور یونائیٹڈسٹیٹس (UNITED STATES)جس کے اکثر باشندے انگلستان کے رہنے والے ہیں وہ بھی اس کی نقل کرنے سے قاصر رہا ہے بلکہ خود انگلستان کے ماتحت جو نو آبادیاں ہیں ان میں