انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 252

۲۵۶ اس سے کسی صورت میں بھی کوئی نقصان نہیں ہوتا- یہ امر صرف سائمن کمیشن سے مخصوص نہیں کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں سے تعلق شدید رکھتے ہیں- دنیا کی ہر سکیم میں یہ بات پائی جاتی ہے اور یہ عقلمند آدمی کا کام ہے کہ جب وہ کسی ایک حصہ میں تبدیلی کرنا چاہے تو یہ بھی دیکھ لے کہ اس کا دوسرے حصوں پر کیا اثر پڑتا ہے- پھر اگر دوسرے حصوں میں تبدیلی کرنے سے وہ سکیم کسی مفید غرض کو پورا کرتی ہو تو اس تبدیلی کو اختیار کرے ورنہ موازنہ کرے کہ دوسرے حصوں میں تبدیلی سے زیادہ نقصان ہوتا ہے یا اس حصہ کو قائم رکھنے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے جس میں تبدیلی کا اسے خیال پیدا ہوا تھا اور یہی سلوک ہمیں سائمن کمیشن کی رپورٹ سے کرنا چاہئے- اور میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ خود سائمن رپورٹ کو ہی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں زیر بحث لانا چاہئے کہ اس میں زیادہ آسانی رہے گی اور کام جلدی سے ختم ہو جائے گا- ورنہ مختلف سکیمیں پیش ہونگی جن کے پیچھے وہ اخلاقی طاقت نہ ہو گی جو اس رپورٹ کے پیچھے ہے نہ وہ اس قدر غور اور مطالعہ کا نتیجہ ہوں گی- نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کی توجہ کو پوری طرح جذب نہ کر سکیں گی اور نامکمل غور کے نتیجے میں ان کے کئی اچھے نکتے رد کر دیئے جائیں گے اور کئی بُری باتیں بظاہر خوشنما ہونے کی وجہ سے قبول کر لی جائیں گے- لیکن چونکہ اس سکیم کی سخت مخالفت ہو چکی ہے- شاید ممبران راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اسے مصلحت کے خلاف سمجھیں کہ اس رپورٹ کو سامنے رکھ کر اس میں تبدیلی کی کوشش کریں اس لئے اس صورت میں میں تو انہیں یہ مشورہ دوں گا کہ خواہ اس رپورٹ کا ذکر وہ نہ کر سکیں لیکن اس کو خوب مطالعہ کر کے اس مجلس میں شامل ہوں اور ہمیشہ اس کے مضامین پر نگاہ رکھیں کہ باوجود بہت سے نقائص کے یہ رپورٹ ان کے بہت کام آئے گی- خصوصاً مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس رپورٹ کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے انگریزوں کو ہندوستان کے لئے فیڈرل سسٹم کے قبول کرنے کی طرف مائل کر دیا ہے حالانکہ انگلستان اپنی قدیم روایات کے اثر کے ماتحت اس سسٹم کو آسانی سے قبول نہیں کر سکتا تھا- مجھے اس جگہ یہ بھی لکھ دینا چاہئے کہ باوجود بہت محنت کے کمیشن کے ممبروں نے شاید جلدی کی وجہ سے بعض مقامات پر حسابی غلطی بھی نکالی ہے اور بعض جگہ بعض مضامین کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن اصل مقام پر پھر اس اشارہ کے مطابق سکیم کو پیش نہیں کر سکے لیکن اس امر پر مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں- راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کو اگر اللہ تعالیٰ نے کامیاب کیا تو ڈرافٹ بنانے والے اس قسم کے نقائص کی خود اصلاح کر لیں گے-