انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 254

۲۵۴ بھی پوری طرح انگریزی آئین جاری نہیں- پس یہ تو ایسی واضح بات ہے کہ اس کا خاص طور پر ذکر کرنا یا اسے اہمیت دینا بالکل خلافِ عقل ہے- لیکن اگر کمیشن کی یہ مراد ہے کہ نیابتی حکومت کا طریق خواہ کسی صورت میں ہو مشرقیحالات کے منافی ہے اور اس کے جاری کرنے میں احتیاط چاہئے تو مجھے اس سے اختلاف ہے- اگر آج سے چند سو سال پہلے یہ بات کہی جاتی تو اور بات تھی لیکن آج جب کہ سب دنیا میں آئینی حکومت کا دور دورہ ہے اور ایران اور افغانستان بھی جو تعلیم کے لحاظ سے بھی اور مغربی ممالک سے تعلقات کے لحاظ سے بھی ہندوستان سے بہت پیچھے ہیں اس طریق کو جاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایران اور ترکی تو ایک حد تک اس میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں اور جاپان بھی اس میں بہت کچھ ترقی کر چکا ہے یہ کہنا کہ ہندوستان جو دنیا کی اس نئی تحریک کا بہت حد تک مطالعہ کر چکا ہے اور تھوڑا بہت تجربہ بھی رکھتا ہے اس کے لائق نہیں بالکل درست نہیں ہو سکتا- دنیا کی تاریخ بھی اس رائے کے مخالف ہے- انگلستان نے بے شک صدیوں میں نیابتی حکومت کا سبق سیکھا ہے لیکن فرانس اور جرمنی نے اس طریق کو یکدم ہی اختیار کر لیا تھا- یہی حال پولینڈ اور آسٹریا کا ہے- ان کی حکومتوں کے تغیر پر سینکڑوں نہیں بلکہ چند ہی سال لگے ہیں- اور اصل بات یہ ہے کہ نمونہ تیار کرنے میں دیر لگتی ہے لیکن نمونہ کی نقل میں اس قدر دیر نہیں لگتی- سٹیم انجن کی دریافت پر جس قدر دیر لگی تھی اتنی دیر اس کا دوسرا نمونہ بنانے میں نہیں لگی اور نہ ہر ملک کی ضرورتوں کے مطابق انجنوں کے نئے نمونوں کے بنانے میں دیر لگی پس یہ استدلال کمیشن کے ممبروں یا دوسرے یوروپین مصنفوں کا درست نہیں- اب زمانہ بدل چکا ہے خواہ مزاج مختلف ہوں، حالات مختلف ہوں لیکن وہ اصولی اتحاد جو سب دنیا کے لوگوں میں پیدا ہو رہا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- ہندوستان بے شک انگلستان کے آئین کی لفظ بہ لفظ نقل نہیں کر سکتا بالکل اسی طرح جس طرح انگلستان کے ہمسایہ ملک فرانس اور جرمن اس کی نقل نہیں کر سکتے لیکن اپنی ضرورتوں کے مطابق وہ ایک نیا ڈھانچہ ضرور تیار کر سکتا ہے اور اس پر عمل بھی کر سکتا ہے- گو ابتداء میں مشکلات ہونگی لیکن کونسا تجربہ بغیر خطرات کے قبول کرنے کے کیا جا سکتا ہے- ہمارا فرض ہے کہ ہم خطرات کو کم کرنے کی کوشش کریں لیکن خطرات کی وجہ سے ترقی کی طرف قدم نہ اٹھانا ہمیں خطرات سے تو شاید نہ بچاوے لیکن ترقی سے ضرور محروم کر دے گا-