انوارالعلوم (جلد 11) — Page 191
۱۹۱ خیال ہے پنجاب سائمن کمیٹی کے ممبروں کو بھی یہی دھوکا لگا تھا کہ وہ اپنے ذاتی حق کے طور پر اس کمیٹی کے ممبر مقرر کئے گئے ہیں نہ کہ بطور اپنی قوم کے نمائندہ کے اور اس وجہ سے جو بات بھی ان کے نزدیک درست تھی وہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھ دی اور اس امر کا خیال نہ کیا کہ کوئی انسان خواہ کس قدر ہی لائق کیوں نہ ہو محض اپنی انفرادی حیثیت میں کسی ملک یا قوم کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہوتا اور جب بھی وہ اس کام کے لئے مقرر کیا جاتا ہے بطور نمائندہ کے مقرر کیا جاتا ہے نہ کہ اپنی مرضی کے مطابق قوم کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے- اس کے ساتھ ہی ممبروں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہر ایک شہر اور ہر قصبہ کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی قوم کے اسمبلی یا کونسلوں کے ممبروں کو اس امر کی طرف صاف الفاظ میں توجہ دلا دیں کہ اگر انہوں نے اس امر میں اپنے نمائندے سے صاف لفظوں میں یہ عہد لے کر کہ وہ گول میز کانفرنس میں اپنی قوم کے خیالات کی ترجمانی کرے گا اس کام کے لئے منتخب نہ کیا تو وہ آئندہ انتخاب میں ہر گز ان کی مدد نہیں کریں گے- سیاسی پارٹیوں کے نمائندے لئے جائیں کونسلوں سے نمائندے طلب کرنے کے علاوہ گورنمنٹ کو چاہئے کہ ان سیاسی جماعتوں سے بھی جو ایک عرصہ سے ملک میں کام کر رہی ہیں اور جن کی اہمیت ایک ثابت شدہ اور مسلمہ امر ہے کچھ نمائندے طلب کرے- اس طرح اس طبقہ کی نمائندگی بھی ہو جائے گی جو گو کونسلوں یا اسمبلی میں شامل نہیں لیکن ملک میں سیاسی اثر کے لحاظ سے کونسلوں یا اسمبلی سے کم بھی نہیں- اس طرح منتخب شدہ نمائندے گو پورے طور پر منتخب نمائندے نہ کہلا سکیں لیکن یہ ضرور ہے کہ موجودہ حالات کے لحاظ سے وہ بہترین نمائندے کہلانے کے مستحق ہوں گے- ہاں اگر گورنمنٹ یہ دیکھے کہ ملک کے کسی اہم طبقہ کی نمائندگی اس طریق سے حاصل نہیں ہوئی تو وہ اس کمی کو نامزدگی سے پورا کر سکتی ہے- لیکن محض اپنی مرضی سے چند آدمیوں کو مقرر کر دینا خواہ وہ چوٹی کے لیڈر ہی کیوں نہ ہوں ہر گز ملک کو تسلی نہیں دے سکتا اور ایسے انتخاب کا نتیجہ مضر ہی نکلے گا- گورنمنٹ کو غلطی پر متنبہ کیا جائے چونکہ اخبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ گورنمنٹ اس غلطی کا ارتکاب کرنے کو تیار