انوارالعلوم (جلد 11) — Page 190
۱۹۰ کر آئیں- قوموں کی آزادی ایسی چیز نہیں جس سے خطرناک عواقب میں مبتلا ہوئے بغیر کوئی گورنمنٹ خواہ وہ کس قدر ہی زبردست کیوں نہ ہو کھیل سکے- میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ پوری دیانتداری سے کام کرے گی اور احتیاط سے ممبروں کا انتخاب کرے گی- مگر بہرحال اگر گورنمنٹ نے نیابت کا کوئی صحیح طریق اختیار نہ کیا تو وہ گورنمنٹ کے منتخب کردہ ممبر ہوں گے نہ کہ قوم کے نمائندے- اور اگر کوئی قوم اس امر پر راضی نہیں ہو سکتی کہ اسمبلی یا کونسل میں جس کا کام بالکل محمدود ہے کوئی شخص گورنمنٹ کی طرف سے نامزد ہو کر اس کا نمائندہ کہلائے تو راؤنڈٹیبل کانفرنس جس نے ایک مستقل فیصلہ کرنا ہے اور حکومت کے اصول طے کرنے ہیں اس کے ممبروں کے متعلق کس طرح کوئی قوم اس کو خوشی سے قبول کر لے گی کہ گورنمنٹ ہی اس کی طرف سے اس کے نمائندوں کو تجویز کر دے- پس میں امید کرتا ہوں کہ گورنمنٹ پچھلی شورشوں سے سبق حاصل کر کے ایسی غلطی کا ارتکاب نہیں کرے گی جس کا کوئی علاج اس کے ہاتھ میں باقی نہ رہے گا- نمائندوں کا انتخاب کس طرح کیا جائے گورنمنٹ کو اس کے فرض کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ سوال رہ جاتا ہے کہ اگر اس کانفرنس کے لئے نمائندوں کا انتخاب کرنا ہی ہو تو کس طرح کیا جائے- کیونکہ کوئی ایسی مشینری ہمارے پاس موجود نہیں جس سے مدد لے کر ہم ملک کی صحیح رائے معلوم کر سکیں- میرے نزدیک گو یہ صحیح ہے کہ اس قسم کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس موجود نہیں لیکن پھر بھی موجودہ حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض ذرائع ایسے اختیار کئے جا سکتے ہیں جن کی مدد سے مختلف اقوام کی نمائندگی ایک حد تک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں ہو سکے اور وہ ذرائع یہ ہیں- کونسلوں سے نمائندے طلب کئے جائیں گورنمنٹ تمام صوبہ جات کی کونسلوں کے ہندو، سکھ اور مسلمان ممبروں سے خواہش کرے کہ وہ اپنی کثرت رائے سے ایک یا دو نمائندے (جو تعداد بھی گورنمنٹ مقرر کرے( ایسے تجویز کریں جو ان کی طرف سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں پیش ہوں- اور اسی طرح مرکزی مجالس سے بھی وہ اس امر کی درخواست کرے- آگے ہر ایک قوم کی کونسلوں یا مرکزی مجالس کے ممبروں کو چاہئے کہ وہ اس شخص کو اپنا نمائندہ منتخب کریں جو اس امر کا اقرار کرے کہ وہ اپنے آپ کو ان کا نمائندہ سمجھے گا نہ کہ اپنے ذاتی حق پر جانے والا- جہاں تک میرا