انوارالعلوم (جلد 11) — Page 192
۱۹۲ بیٹھی ہے اس لئے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ کونسلوں کے مسلمان ممبر اگر جمع ہو سکیں تو جمع ہو کر ورنہ فرداً فرداً گورنمنٹ کو اطلاع دے دیں کہ اس کے مقرر کردہ نمائندے ان کے یا ان کی قوم کے نمائندے نہ ہوں گے- پس گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ گورنمنٹ کو اس غلطی سے متنبہ کر دیں اور ان اعلیٰ عہدیداروں کو محض اس امر پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ان سے مشورہ کر کے نمائندے مقرر کرے تا کہ وہ لوگ ان کے خیالات کی نمائندگی کے پابند ہوں اور اپنی مرضی سے جو کچھ چاہیں کہہ کر نہ آ جائیں- اسی طرح دونوں مسلم لیگوں اور خلافت کمیٹی کو بھی چاہئے کہ وہ گورنمنٹ کو اس غلطی سے متنبہ کر دیں اور ان اعلیٰ عہدیداروں کو محض اس امر پر خوش نہیں ہونا چاہئے کہ ان کے نام راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں آ گئے ہیں- ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اصول کا سوال ہے اور ان کی قوم کی عزت کا سوال ہے- پس انہیں چاہئے کہ جب ان سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شریک ہونے کی درخواست کی جائے تو وہ یورپ کے سیاسیین کے دستور کے مطابق گورنمنٹ کو یہی جواب دیں کہ جب تک وہ اپنی اپنی انجمنوں کی مجالسعاملہ سے گفتگو نہ کر لیں وہ اپنی شرکت کا فیصلہ نہیں کر سکتے- اور پھر ان انجمنوں سے اپنی شرکت اور اپنے طریق عمل کے متعلق مشورہ لینے کے بعد اپنی منظوری سے گورنمنٹ کو اطلاع دیں- یہ امر واضح ہے کہ اپنی قوم کا نمائندہ ہونے کی حیثیت میں ان کی بات میں جو اثر ہو سکتا ہے اور ان کی آواز میں جو طاقت ہو سکتی ہے وہ گورنمنٹ کے انتخاب میں ہر گز نہیں ہو سکتی گورنمنٹ کے انتخاب کی وجہ سے وہ بڑے آدمی تو کہلا سکتے ہیں لیکن وہ ایک جماعت نہیں کہلا سکتے- اور آدمی خواہ کتنا بھی بڑا ہو جماعت کا مقابلہ نہیں کر سکتا- پھر انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ گورنمنٹ سے صاف کہہ دیں کہ ہم اپنی قوم کے نمائندے ہو کر جا سکتے ہیں ورنہ نہیں تو اس سے گورنمنٹ کی نگاہ میں بھی اور پبلک کی نگاہ میں بھی ان کی عزت بڑھے گی- اور خود مسلمانوں کا بھی رعب قائم ہوگا کیونکہ گورنمنٹ کو معلوم ہو جائے گا کہ اب یہ قوم ایکجان ہو گئی ہے اور اس کی آواز میں ایک شوکت پیدا ہو گئی ہے- گورنمنٹ کے تجویز کردہ ممبروں سے مطالبہ اگر گورنمنٹ اس امر کو قبول نہ کرے تو پھر میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ جن لوگوں کو گورنمنٹ نمائندہ تجویز کرے ان سے مطالبہ کیا جائے وہ اعلان کریں کہ وہ اپنے آپ کو اپنی قوم کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور یہ کہ وہ اس متفقہ قومی فیصلے کے پابند رہیں گے جو کہ