انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 141

انوار العلوم جلد ا ۱۴۱ فضائل القرآن (۲) زمین اور آسمان اور انسان اور اس کی طاقتیں (یعنی ترقی کی قابلیتیں جن سے وہ زمین و آسمان پر حکومت کرتا ہے اور جو رَبُّ الْعَلَمِينَ پر جو ترقیات کا سرچشمہ ہے شاہد ہیں۔) اور اغذیہ وغیرہ جو ان طاقتوں کو قائم رکھتی ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے رَبُّ الْعَلَمِينَ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔ - اس سال جب میں کشمیر گیا تو وہاں ایک ایم ۔ اے مجھے ملنے کیلئے آئے۔ اور کہنے لگے میں خدا کو تو نہیں مانتا لیکن اگر کوئی خدا ہے تو اس نے ہمیں دنیا میں پیدا کر کے خواہ مخواہ مصیبت میں ڈال دیا۔ ہم نے کب اس سے کہا تھا کہ ہمیں پیدا کر کے دنیا میں بھیج دو ؟ میں نے کہا۔ اگر دنیا کی زندگی مصیبت ہے اور آپ اس مصیبت سے نکلتا چاہتے ہیں تو یہ کونسی مشکل بات ہے۔ زہر کھالو اور مرجاؤ۔ کہنے لگے یہ بھی تو نہیں ہو سکتا مرنے کو دل نہیں چاہتا۔ میں نے کہا۔ اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ آپ دنیا کی زندگی کو اچھا سمجھتے ہیں اور صرف منہ سے اس کی برائی بیان کرتے ہیں۔ غرض اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسانوں کے لئے قرار کی جگہ بنایا ہے۔ ہندو کہتے ہیں۔ دنیا مصیبت کی جگہ ہے مگر جب بیمار ہوں تو ڈاکٹروں کو سب سے زیادہ فیس وہی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے منہ سے جتنا چاہو کہو کہ دنیا مصیبت کی جگہ ہے لیکن یہاں سے تم ہلنا نہیں چاہتے۔ کیونکہ خدا نے تمہارے لئے اس زمین کو قرار گاہ قرار دیا ہے ۔ پھر وَالسَّمَاءَ بِنَاءً آسمان بھی تمہاری حفاظت کا موجب ہے۔ جو چیزیں زمین کے ذریعہ پوری نہ ہو سکتی تھیں ان کو ہم تمہارے لئے آسمان سے نازل کرتے ہیں۔ کیونکہ آسمان بناء کا موجب ہے ۔ وَصَوَّرَ كُمْ پھر اس خدا نے تمہیں شکل دی ۔ فَأَحْسَنَ صُوَرَ كُمْ ۔ اور بڑی اعلیٰ درجہ کی اور مکمل قابلیتوں والی شکل بنائی ۔ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبَتِ اور تمہارے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کی چیزیں پیدا کی ہیں۔ اگر چیزیں خراب ہوتیں تو تمہاری قابلیتیں بھی اعلیٰ درجہ کی نہ ہوتیں۔ مگر ان قابلیتوں کو خرابی سے بچانے کے لئے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے رزق طیب پیدا کیا۔ فَتَبْرَكَ اللهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ ۔ پس اے لوگو! یہ رَبُّ الْعُلَمِينَ ہے۔ اگر وہ رَبُّ الْعَلَمِينَ نہ ہوتا اور سورج کوئی اور پیدا کرتا اور زمین کوئی اور پیدا کر تا تو سورج اور زمین کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہوتا۔ مگر اب دیکھو سورج زمین کی حفاظت کر رہا ہے اور زمین سورج کی۔ یہ سب باتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ ایک ہی خدا ہے