انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 140

۱۴۰ وہ ان ضروریات کے پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ لطیف ہے۔خدا تعالیٰ کی بعض صفات جوڑے کی حیثیت رکھتی ہیں یہاں یہ نہایت عجیب نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات جوڑے کی حیثیت رکھتی ہیں۔جس طرح مرد و عورت کے ملنے سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح ان دو صفات کے ملنے سے نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔مثلاً خبردار رہنا اور ادنیٰ سے ادنیٰ تغیر کو بھی غائب نہ ہونے دینا یہ لطیف ہستی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔یعنی ایسی ہستی جو موجودات کے ہر ذرہ سے ایک کامل اتصال رکھتی ہو۔اور ایسے اتصال کے لئے لطیف ہونا شرط ہے۔پس خبیر کی صفت لطیف کے لئے بمنزلہ جوڑے کے ہے۔اور اس کے ذریعہ سے اس کا بھی ظہور ہوتا ہے۔یا ان دونوں کا آپس میں روح اور جسم کا تعلق ہے کہ ایک نہ ہو تو دوسری صفت بھی ثابت نہیں ہوتی اور دوسری نہ ہو تو پہلی ثابت نہیں ہوتی۔اگر خبیر کی صفت وَھوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَسے ثابت نہ ہوتی تو لَا تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُبھی ثابت نہ ہوتا بلکہ عدم ثابت ہوتا۔اس کے مقابلہ میں اگر لَا تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُثابت نہ ہوتا یعنی اس کا لطیف ہونا تو خبیر کی صفت بھی نہیں رہ سکتی تھی۔کیونکہ جو وجود کامل اتصال نہیں رکھتا وہ خبیر بھی نہیں ہوسکتا۔غرض لطیف ہستی وہ ہوتی ہے جو باریک در باریک اور ہر ذرہ میں موجود ہو۔اور جو ایسی لطیف ہو وہ نظر کبھی نہیں آسکتی، ضرور ہے کہ وہ مخفی ہو۔پھرلطیف ہونا خبیر ہونے کا بھی ثبوت ہے۔کیونکہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ایک ہستی ہے جو لطیف ہونے کی وجہ سے ہر ذرہ سے تعلق رکھتی ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ خبیر ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی صفت لطیف اس کے خبیر ہونے پر شاہد ہے۔اور خبیر ہونے کی صفت اس کے لطیف ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔خدا تعالیٰ کی صفت رَبُّ الْعٰلَمِیْن کا مادی ثبوت ایک اور صفت خدا تعالیٰ کا رَبُّ الْعٰلَمِیْن ہونا ہے اس کے روحانی اور جسمانی دو ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔جسمانی ثبوت تو یہ دیا کہ فرمایا اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۴۳؂ یعنی