انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 142

۱۴۲ جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور وہی رب العلمین ہے۔صَوَّرَکُمْ میں یہ بھی بتایا ہے کہ بندہ ایسا بنایا گیا ہے کہ باقی سب مخلوق پر حکومت کرتا ہے۔یہ جسمانی ثبوت ہے خدا تعالیٰ کے رب العلمین ہونے کا۔خدا تعالیٰ کے رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ہونے کا روحانی ثبوت روحانی ثبوت سورۃ شعراء میں اس طرح دیا کہ بہت سے نبیوں کا ذکر کرتے ہوئے جو مختلف اقوام کی طرف آئے تھے فرمایا وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ۔بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ۔وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ۳ ۴؂ یعنی یہ قرآن رب العلمین خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے اور اس کا روحانی ثبوت یہ ہے کہ یہ کلام سب دنیا کو مخاطب کرکے نازل ہوا ہے۔جب کہ پہلے کلام صرف مختص القوم اور مختص الزمان تھے اور جب کہ وہ کلام صرف اﷲ تعالیٰ کی ربوبیت کے ثبوت تھے۔یہ کلام ربوبیتِ عالمین کا ثبوت ہے۔غرض یہ قرآن کسی ایک قوم کی طرف نہیں آیا کیونکہ اسے خدا تعالیٰ کی رب العلمین کی صفت کے ماتحت نازل کیا گیا ہے اور تمام دنیا اس کی مخاطب ہے۔پھر اس کلام کو روح الامین لے کر نازل ہوا ہے۔یعنی پہلے نبیوں کے کلام میں خرابیاں آگئی تھیں کیونکہ بندوں نے ان کی حفاظت نہ کی۔پس خدا تعالیٰ نے اس روح کے ذریعہ سے جو امین ہے۔محفوظ طور پر وہ پہلے کلام آپ پر نازل کئے ہیں۔اور چونکہ کلام کے پہنچانے کے لئے اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے تا کہ پہنچانے میں کوئی نقص نہ رہ جائے اس لئے یہ کلام تیرے دل پر نازل کیا گیا ہے۔غرض بائیبل اور وید وغیرہ کتابیں سب خراب ہوچکی تھیں۔مگر خدا تعالیٰ کے پاس اصلی تعلیم محفوظ تھی۔چنانچہ اس نے روح الامین کے ذریعہ اس کلام کو تیرے دل پر نازل کیا تاکہ لوگوں کا جرأت کے ساتھ مقابلہ کرسکے یہ کلام عربی زبان میں ہے جو تمام مضامین کو کھول کر بیان کرنے والی ہے۔اور اس کے رب العلمین کی طرف سے ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ یہ کلام پہلی کتب میں بھی موجود ہے۔اس رنگ میں بھی کہ ان کے اصول اس میں پائے جاتے ہیں اور اس رنگ میں بھی کہ ان سب کو اکٹھا کرکے اس میں بیان کردیا گیا ہے۔گویا اس میں تمام غیر مسلم اقوام کی ذہنیت کا خیال رکھا گیا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ رب العلمین کی طرف سے ہے۔اگر یہ رب العلمین کی طرف سے نہ ہوتا تو یہ ساری دنیا کی فکر کیوں