انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 116

۱۱۶ اسی طرح بعض صوفیاء نے قرآن کریم سے استد لال کر کے لکھا کہ زمین گول ہے۔چنانچہ کولمبس کے متعلق بیان کیا جاتاہے کہ اسے امریکہ کی طرف جانے کا خیال محض اس وجہ سے پیدا ہوا کہ اس نے ہسپانیہ کے مسلمانوں سے سنا تھا کہ زمین گول ہے۔غرض صوفیاء نے تو زمین کے متعلق لکھا کہ وہ گول ہے مگر ظاہری علوم رکھنے والے اس نہ سمجھ سکے۔اسی طرح اجرائے نبوت کے متعلق صوفیاء اور اورلیاء نے تو لکھا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں نبی آسکتے ہیں۔جیسے محی الدین صاحب ابن عربی ؒ آنے والے مسیح کو امتی بھی اور نبی بھی قرار دیتے ہیں لیکن علماء نے اس کا انکار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چیلنج اب اسی زمانہ میں دیکھ لوکہ ظاہری علوم رکھنے والوں کی سمجھ میں قرآن کریم کی کوئی بات نہ آئی۔انہوں نے معذرت کے نیچے پناہ لینی چاہی اور لکھ دیا کہ قرآن میں خطابیات ہیں یعنی قرآن نے کئی باتیں ایسی لکھی ہیں جنہیں دوسرے لوگ مانتے تھے۔ان کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن خود بھی انہیں درست قرار دیتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے رد کیا اور اس طرح قرآن کریم کی صداقت ثابت کی۔اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ اعلان کیا کہ کوئی ایسی بات بتاؤ جو روحانیت سے تعلق رکھتی ہو مگر قرآن میں نہ ہو۔یا قرآن کریم کی بتائی ہوئی باتوں پر جو اعتراض پڑے وہ پیش کرو۔آپ نے قرآن کریم سے ایسی ایسی معرفت کی باتیں نکالیں کہ انہیں پڑھنے والے سر دھنتے ہیں اور ان لوگوں کی غفلت اور نادانی پر افسوس کرتے ہیں جنہوں نے قرآن کریم کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اس محل اعتراض ٹھہرایا۔اب آپ کی جماعت پر بھی خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ جیسے قرآن کریم کے معارف آپ کی جماعت کے لوگ بیان کر سکتے ہیں وہ باقی دنیا کے لوگوں سے پوشیدہ ہیں۔قرآن کریم دعویٰ کے ساتھ دلیل بھی پیش کرتا ہے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ جن قرآنی علوم اور معارف کا انکشاف ہواان میں سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن کریم جو دعویٰ کرتا ہے اس کی دلیل بھی خود ہی دیتا ہے وہ اپنی امداد کے لئے انسانوں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ورنہ وہ کتاب کس کا م کی جو دعویٰ ہی دعویٰ کرتی جائے اور کوئی دلیل نہ دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ وہی کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سےہوسکتی ہے جو دوسروں کی امداد کی