انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 117

۱۱۷ محتاج نہ ہو۔یہ نہ ہو کہ دعویٰ تو خود کرے اور دلیل دوسروں پر چھوڑ دے جو زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ دعویٰ تو ہر ایک کر سکتا ہے لیکن دلیل دینا اور اس دعویٰ کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔اخلاق کے متعلق قرآن کریم کی بے نظیر تعلیم دوسری بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بیان فرمائی کہ قرآن کریم نے اخلاق کے متعلق جو تعلیم پیش کی ہے اس کی نظیر دنیا کا کوئی مذہب پیش نہیں کرسکتا۔چنانچہ آپ نے قرآنی علوم کی روشنی میں اخلاق کے ایسے اصول بیان کئے کہ اس وقت کے ترقی یافتہ علم النفس کے ماہرین بھی ان کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتے۔بلکہ اب تو یہ معلوم ہوتاہے کہ کئی باتیں جن کی پہلے یہ لوگ مخالفت کیا کرتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمانے کے بعد ان کی تائید کرنے لگے گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلاق کی تعلیم قرآن کریم سے نکالی اور ان سوالات پر روشنی ڈالی کہ اعلیٰ اخلاق کس طرح پیدا ہوتے ہیں۔ان کے حصول میں کون کون سی روکیں ہیں۔ان کے پیدا کرنے کے کیا ذرائع ہیں۔یہ سب باتیں قرآن کریم سے آپ نے پیش کیں اور دنیا پر اسلام کی فضیلت ثابت کی۔حقیقتِ نبوت کا اثبات تیسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم سے حقیقت نبوت ثابت کی۔پہلی ساری کتابیں اس بارے میں خاموش ہیں۔چنانچہ میں نے اس کے متعلق بڑے بڑے پادریوں کو چٹھیاں لکھیں کہ بائیبل کی رو سے نبوت کی کیا تعریف ہے؟ اس پر بعض کی طرف سے یہ جواب آیا کہ ہماری اس کے متعلق کوئی تحقیق نہیں۔حالانکہ وہ مسئلہ جس پر مذہب کی بنیاد ہے اس کی حقیقت تو معلوم ہونی چاہیے۔مگر بڑے بڑے پادریوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں اور ایک نے تویہاں تک لکھ دیا کہ میں نبوت کی تعریف لکھتا ہوں مگریہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ صحیح ہے یا غلط۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حقیقت نبوت قرآن کریم سے ثابت کی اور بتایا کہ ان شرائط کےماتحت جن پر وحی نازل ہو انہیں ہم نبی کہہ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔جن پادریوں نے نبوت کے متعلق کچھ لکھا انہوں نے یہی لکھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جو پیشگوئیاں کرے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ بائیبل میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہے جو پیشگوئیوں کرتے تھے۔مگر نبی نہ تھے۔وہ ان میں اور