انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 112

انوار العلوم جلد 11 ۱۱۲ فضائل القرآن (۲) ۳۳ کروڑ بت پوجے جاتے تھے مگر ان ہندوؤں میں سے ہی آریہ اٹھے جو کہتے ہیں کہ ہم ہی اصل توحید کے ماننے والے ہیں۔ اسی طرح مسیحیوں کو دیکھو تو وہ کہتے ہیں اصل توحید ہم میں ہی ہے میں نے عیسائیوں کی ایسی کتابیں پڑھی ہیں جن میں وہ لکھتے ہیں کہ اسلام نے ہم پر یہ غلط اعتراض کیا ہے کہ ہم شرک میں مبتلا ہیں حالانکہ اب بھی ان میں ایسے لوگ ہیں جو حضرت مریم اور حضرت مسیح کی پرستش کرتے ہیں۔ غرض کتنا بڑا تغیر رونما ہو گیا کہ جہاں جہاں قرآن پڑھا گیا وہاں توحید قائم ہوتی چلی گئی۔ اور دنیا یہ اقرار کرنے لگ گئی کہ خدا ہی اَكْرَم ہے۔ یہ کتنی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو قرآن کریم کے متعلق کی گئی۔ پھر پہلے دن پہلی وحی میں اور پہلے وقت میں کی گئی۔ ایک اور پیشگوئی اس وحی میں قرآن کے قلم کے ذریعہ ہر قسم کے علوم کا اظہار متعلق یہ کی کہ الَّذِی عَلم بالعلم بینی یہ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ اس کتاب کے ذریعہ نہ صرف یہ ثابت ہو گا کہ تیرا رب سب سے بالا ہے اور باقی ساری ہستیاں اس کے تابع ہیں بلکہ ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گا کہ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ تیرے رب نے قلم کے ساتھ علم سکھایا ہے۔ یعنی آئندہ تحریر کا عام رواج ہو جائے گا۔ وہ مکہ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت صرف سات آدمی پڑھے لکھے تھے۔ جہاں کے بڑے بڑے لوگ لکھنا پڑھنا ہتک سمجھتے تھے۔ شعراء اپنے شعر صرف زبانی یاد کراتے تھے۔ اور اگر انہیں کہا جائے کہ اشعار لکھوا دیئے جائیں تو اسے اپنی ہتک سمجھتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے کہ لوگ ان کے اشعار زبانی یاد رکھتے ہیں۔ جب قرآن نازل ہوا تو ان میں ایک عظیم الشان تغیر آگیا۔ یہاں تک کہ صحابہ میں کوئی ان پڑھ نہ ملتا تھا۔ سو میں سے سو ہی پڑھے لکھے تھے۔ تو فرمایا الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ اس کتاب کے ذریعہ دوسرا عظیم الشان تغیر یہ ہو گا کہ لوگوں کی توجہ علوم کی طرف پھیر دی جائے گی چنانچہ آپ کی بعثت کے معاً بعد لکھنے کا رواج ترقی پذیر ہوا۔ صحابہ نے لکھنا پڑھنا شروع کیا۔ مدینہ میں آپ نے سب بچوں کو تعلیم دلوائی یہاں تک کہ عرب کا بچہ بچہ پڑھ لکھ گیا بلکہ اسلام کے ذریعہ سے یونانی کتب بھی محفوظ ہو گئیں۔ غرض قلم کا استعمال اس کثرت سے ہوا کہ اس کی مثال پہلے زمانہ میں نہیں ملتی۔ یہاں سوال ہو سکتا ہے کہ اس بات کا تعلق قرآن کریم کی فضیلت سے کیا ہے؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کو کامل اور افضل ثابت کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے