انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 107

انوار العلوم جلد ۱۰۷ فضائل القرآن (۲) نہیں دلاتا بلکہ صرف یہ کہتا ہے کہ نیا فہم اور نیا علم حاصل کرو جو قرآن کریم کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔ قرآن کریم کے اس دعوی کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ فضیلت کے وہ تمام وجوہ جن کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اور فضیلت کے ہر اصل کے لحاظ سے قرآن کریم تمام دوسری کتب الهامیہ سے او افضل اور برتر ہے۔ پہلی بات جو میں نے منبع کے لحاظ سے قرآن کریم کی افضیلت کا ثبوت بطور فضیلت بیان کی ہے وہ میچ کے لحاظ سے کسی چیز کی افضلیت ہے۔ یعنی کسی چیز کے منبع اور مخرج کا اعلیٰ ہونا بھی اس کے لئے وجہ فضیلت ہوتا ہے۔ جیسے ایک بادشاہ کے کلام کو دوسرے لوگوں کے کلام پر مقدم کیا جاتا ہے۔ اگر دو آدمی کلام کر رہے ہوں جن میں سے ایک بادشاہ ہو تو سننے والے لازماً بادشاہ کی بات کی طرف زیادہ متوجہ ہونگے اور بغیر یہ فیصلہ کرنے کے کہ ان میں سے کس کا کلام افضل ہے پہلے ہی یہ سمجھ لیا جائے گا کہ بادشاہ کا کلام دوسرے سے اہم ہو گا۔ اسی طرح ایک بڑے ادیب کے کلام کو دوسروں کے کلام پر ترجیح دی جاتی ہے۔ مختلف شعراء اگر ایک جگہ بیٹھے ہوں اور وہاں مثلاً غالب بھی آجائیں تو بغیر اس کے کہ ان کے اشعار سنے جائیں یہی کہا جائے گا کہ ان کے اشعار افضل ہونگے ۔ اسی طرح ایک ڈاکٹر کسی بیمار کے متعلق رائے دیتا ہے اور بعض دفعہ وہ غلطی بھی کر جاتا ہے بلکہ بعض اوقات عورتوں کے بتائے ہوئے نسخے زیادہ فائدہ دے دیتے ہیں مگر کوئی عقلمند یہ نہیں کہتا کہ ایک ڈاکٹر کی بات رد کر دی جائے اور ایک عورت کی بات مان لی جائے۔ لازما ڈاکٹر کی بات کی طرف ہی توجہ کی جائیگی۔ ہاں جے کسی دوائی سے فائدہ نہ ہوتا ہو وہ کسی عورت کی بتائی ہوئی دوائی بھی استعمال کرے گا۔ کیونکہ مرتا کیا نہ کرتا کے مطابق وہ یہ کہے گا کہ چلو اس کی دوائی بھی آزما لو۔ غرض اتھارٹی اپنی ذات میں بھی فضیلت رکھتی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اتھارٹی کے لحاظ سے غالب گمان ہوتا ہے کہ اس کی بات ٹھیک ہوگی۔ اسی کی طرف پہلے کیوں نہ توجہ کریں۔ بہر حال جس چیز کی فضیلت مقام اور منبع کے لحاظ سے ثابت ہو جائے اس کی طرف دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ کی جاتی ہے اور اسے فضیلت دے دی جاتی ہے۔ لیکن اگر منبع ایسا ہو کہ جس سے غلطی کا امکان ہی نہ ہو تو پھر تو سُبْحَانَ اللهِ!