انوارالعلوم (جلد 11) — Page 105
۱۰۵ کی افضلیت کا دعویٰ ملتا ہے۔پھر قرآن کریم کی افضلیت کا دعویٰ اس آیت میں بھی موجود ہے کہ۔مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَوْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَا أَوْ مِثْلِہَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔۶ فرماتا ہے ہم کوئی کلام الٰہی منسوخ نہیں کرتے یا فراموش نہیں کراتے جب تک کہ اس سے بہتر یا اس جیسا کلا م نہ لائیں۔یعنی جسے منسوخ کرتے ہیں اس سے بہتر لاتے ہیں اور جو بھول چکا ہو تا ہے مگر عمل کے قابل ہوتا ہے اسے ویسا ہی لے آتے ہیں۔اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔اے مخاطب! تجھے یہ کیوں عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کر سکتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔تورات میں ایک نئی شریعت نازل ہونے کی پیشگوئی جب قرآن کریم پہلی الہامی کتب کا ناسخ ہے تو ضروری تھا کہ وہ کچھ تعلیم تو ان تعلیموں سے بہتر لائے اور کچھ وہ لائے جو مٹ گئی ہو۔جب میں نے اس پہلو سے غور کیا تو قرآن کریم کے اس دعویٰ کی تصدیق دوسری کتابوں سے بھی معلوم ہوئی۔چنانچہ بائیبل میں آتا ہے۔’’میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے مونہہ میں ڈالوں گا۔اور جو کچھ میں اس سے فرماوں گا وہ سب ان سے کہے گا۔‘‘۷ اس میں یہ خبر دی گئی تھی کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جب موسیٰ علیہ السلام جیسا نبی مبعوث ہوگا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ صاحب شریعت نبی تھے اس لئے ان جیسے نبی کے آنے کے لازماً یہ معنی تھے کہ وہ بھی صاحب شریعت ہوگا۔پھر جب وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے گا تومعلوم ہوا کہ جو کتاب وہ لائے گا اس میں بعض باتیں زائد بھی ہوں گی جو بائیبل میں موجو د نہ ہوں گی۔ورنہ نئی شریعت کے آنے کی کیا ضرورت تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت منسوخ کرنے میں کیا حکمت تھی۔لیکن جب وہ منسوخ کی گئی تو ضروری تھا کہ آنے والی شریعت اس سے افضل ہو۔پس قرآن کریم کی افضلیت بائیبل کے اس حوالہ سے بھی ثابت ہے کیونکہ شریعت جدیدہ ناسخہ عقلاً شریعت منسوخہ سے حقیقی طور پر یانسبتی طور پر افضل ہونی چاہیے۔