انوارالعلوم (جلد 11) — Page 481
۴۸۱ باب نہم ریاست ہائے ہند اب میں ریاست ہائے ہند کا سوال لیتا ہوں کہ اس نئے نظام میں ان کا کیا درجہ ہو؟ ریاستیں ہندوستان کی آبادی کے قریباً چوتھے حصے اور اس کے رقبہ کے قریباً تیسرے حصے پر مشتمل ہیں- اس وجہ سے ان کا نظام حکومت سے الگ رہنا ہندوستان کی ترقی پر ضرور اثر ڈالے گا اس لئے ضرورت ہے کہ کسی نہ کسی اصول پر برطانوی ہندوستان اور ریاستوں میں تعلق پیدا کیا جائے- ریاستوں کا نقطہ نگاہ جو مجھے معلوم ہے یہ ہے کہ وہ اصل میں تو براہ راست سیکرٹری آف سٹیٹ سے تعلق رکھنا پسند کرتی ہیں لیکن اگر اس کی کوئی صورت نہ ہو سکے تو پولیٹیکل محکمہ سے تعلق قائم رہنے کو برطانوی ہند سے وابستہ ہونے پر ترجیح دیتی ہیں*- میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ ریاستیں اس امر سے خائف ہیں کہ اگر ان کا برطانوی ہند سے تعلق ہو گیا تو برطانوی ہند زور دے گا کہ ان کے علاقہ میں بھی ویسے ہی آزاد نظام حکومت قائم ہو جائیں جس قسم کے برطانوی ہند میں ہوں گے- جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ صورت تو نہیں ہو گی لیکن اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ریاستوں کے باشندوں میں آزادی کی تحریک پیدا ہوئی تو برطانوی ہند کے باشندوں کو قدرتاً اس تحریک سے ہمدردی ہو گی- کیونکہ ایک انسان جن مشکلات میں سے خود گزر چکا ہو ویسی ہی مشکلات میں سے گزرنے والے دوسرے انسان سے اسے طبعا ہمدردی ہوتی ہے- مگر یہ ہمدردی بہر حالت پیدا ہو گی خواہ ریاستوں کا تعلق برطانوی ہند سے ہو- یا نہ ہو اور ریاستوں کو پہلے سے ہی سمجھ لینا چاہئے کہ * بعض بہی خواہان ملک کے زور دینے پر ریاستوں کا نقطئہ نگاہ بدل گیا ہے اور نہایت خوشی کی بات ہے کہ راونڈ ٹیبل کانفرنس کے موقع پر اکثر والیان ریاست نے فیڈریشن میں شمولیت کو پسند کر لیا ہے-