انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 279

۲۷۹ باب پنجم ہندوستان کی دوہری مشکلات انگلستان سے سمجھوتہ اور اقلیتوں کے سوال کا حل اس امر پر اپنی رائے ظاہر کرنے کے بعد کہ سائمن کمیشن کی یہ سفارش کہ آئندہ ہندوستان کے لئے ایسا نظام تجویز کیا جائے کہ جس کے اندر ہی ترقی کی گنجائش ہو اب میں اس اہم سوال کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں جو ہندوستان کی آئینی ترقی کے راستہ میں بطور ایک چٹان کے حائل ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ بوجہ ایک لمبے عرصہ سے ہندوستان پر حکومت کرنے کے انگلستان سے سمجھوتہ کرنا بھی بہت مشکل ہے لیکن اس سے بھی زیادہ یہ مشکل ہے کہ ہندوستان کے لئے کوئی ایسا طریق حکومت تجویز کیا جائے جس کے ذریعہ سے وہ لوگ برسرحکومت آئیں جو واقعہ میں حکومت کرنے کے مستحق ہوں اور وہ لوگ حکومت پر قائم نہ ہوں جو اسے نفاق و شقاق کا ذریعہ بنا لیں- کارلائل نے کیا سچ کہا ہے کہ ‘’فضیلت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو حکومت سے علیحدہ کرنے کے بعد بھی اصل سوال حل طلب رہ جاتا ہے جو یہ ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے جو واقعہ میں اس کے اہل ہیں- آہ! ہم اس سوال کا حل کس طرح کریں؟’‘ کار لائل کا یہ قول ہر ملک پر صادق آتا ہے لیکن ہندوستان کی حالت پر تو یہ بہت ہی چسپاں ہوتا ہے- ہمارے لئے انگریزوں سے سمجھوتہ اس قدر مشکل نہیں جس قدر کہ اپنے لئے ایک مناسب قسم کی گورنمنٹ تجویز کرنے کا سوال مشکل ہے- ہمارا ملک تعصّب اور اختلاف کی آماجگاہ بن رہا ہے- اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کو ان دونوں