انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 278

۲۷۸ ہر ایک شخص جو آئینی حکومت کے اصول سے واقف ہے سمجھ سکتا ہے کہ ایسی حکومت ذمہ دار حکومت نہیں کہلا سکتی اور اس قسم کی تجویز زیادہ سے زیادہ عارضی طور پر برداشت کی جا سکتی ہے لیکن رپورٹ خاموش ہے کہ اس طریق کو کس طرح بدلا جا سکے گا- آیا اس میں تغیر کرنا گورنمنٹ کے اختیار میں ہوگا، کونسلوں کے اختیار میں ہوگا، گورنر جنرل اور سیکرٹری آف سٹیٹ کے اختیار میں ہوگا، یا پارلیمنٹ کے اختیار میں ہوگا، اگر گورنر کے اختیار میں ہوگا تو ایک گورنر کے فیصلہ کو دوسرا گورنر بدل سکے گا یا نہیں- اگر بدل سکے گا تو نظام حکومت ہمیشہ آگے پیچھے ہوتا رہے گا- اگر کونسلوں کے اختیار میں ہوگا تو وہ پہلے ہی سیشن میں اسے بدل دیں گی- اگر گورنر جنرل اور سیکرٹری آف سٹیٹ کے اختیار میں ہوگا تو اس کی بھی کوئی آئینی صورت نہیں بتائی اور اگر پارلیمنٹ کے اختیار میں ہوگا تو وہی سوال نئے کمیشنوں کا پیدا ہو جائے گا- مگر اس سے بھی مشکل سوال مرکزی حکومت کا ہے جس میں کہ حکومت کو نیابتی اصول پر ابھی قائم ہی نہیں کیا گیا- وہاں موجودہ نظام کونسل کس طرح بدلا جا سکے گا- اس کا جواب کمیشن کی رپورٹ نہیں دیتی بلکہ وہ خود تسلیم کرتی ہے کہ اس کی کوئی تدبیر انہیں نہیں سوجھی- وہ اقرار کرتی ہے کہ-: ‘’یہ تو ممکن ہے کہ اس وقت ایک ایسا نظام حکومت مقرر کر دیا جائے جو آئندہ ترقی کے مخالف نہ ہو لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی قانون پارلیمنٹ میں ایسا پاس کر دیا جائے جس کے ذریعہ سے ہندوستان کی مرکزی حکومت اندرونی اصلاح اور ارتقاء کے ذریعہ سے آپ ہی آپ آزادی کی طرف قدم بڑھاتی جائے-۱۳’‘؎ یہ خیال کرتے ہوئے کہ اصل سوال مرکزی حکومت کا ہی تھا صوبہ جات کے موجودہ نظام میں تو معمولی تغیرات کے ساتھ ایک معقول نظام حکومت جو ہر روز کی شورش سے نجات دے دے- ممکن تھا اس فقرہ کے یہ معنے بنتے ہیں کہ جب کہ مانٹیگوچیمسفورڈ سکیم نے کم سے کم یہ انتظام کیا تھا کہ وقتاً فوقتاً آئین حکومت پر نظر ثانی ہوتی رہے- سائمن کمیشن نے صرف اظہارحیرت کر دیا ہے اور پیش آنے والی مشکل کا کوئی علاج نہیں بتایا- وہ ایک اعلیٰ اصل قائم کرنے میں تو کامیاب ہوا ہے لیکن اس اصل سے کام لینے میں بری طرح ناکام رہا ہے- میں کوشش کروں گا کہ آئندہ تفصیلی بحث میں ضروری ضروری مقامات پر کمیشن کی رپورٹ کے اس نقص کی طرف توجہ دلاؤں-