انوارالعلوم (جلد 11) — Page 141
۱۴۱ زمین اور آسمان اور انسان اور اس کی طاقتیں (یعنی ترقی کی قابلیتیں جن سے وہ زمین و آسمان پر حکومت کرتا ہے اور جو رب العلمین پر جو ترقیات کا سرچشمہ ہے شاہد ہیں۔) اور اغذیہ وغیرہ جو ان طاقتوں کو قائم رکھتی ہیں۔یہ سب اﷲ تعالیٰ کے وجود اور اس کے رب العلمین ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔اس سال جب میں کشمیر گیا تو وہاں ایک ایم۔اے مجھے ملنے کے لئے آئے۔اور کہنے لگے میں خدا کو تو نہیں مانتا لیکن اگر کوئی خدا ہے تو اس نے ہمیں دنیا میں پیدا کر کے خواہ مخواہ مصیبت میں ڈال دیا۔ہم نے کب اس سے کہا تھا کہ ہمیں پیدا کر کے دنیا میں بھیج دو؟ میں نے کہا۔اگر دنیا کی زندگی مصیبت ہے اور آپ اس مصیبت سے نکلنا چاہتے ہیں تو یہ کون سی مشکل بات ہے۔زہر کھالو اور مرجاؤ۔کہنے لگے یہ بھی تو نہیں ہوسکتا مرنے کو دل نہیں چاہتا۔میں نے کہا۔اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ آپ دنیا کی زندگی کو اچھا سمجھتے ہیں اور صرف منہ سے اس کی برائی بیان کرتے ہیں۔غرض اﷲ تعالیٰ نے زمین کو انسانوں کے لئے قرار کی جگہ بنایا ہے۔ہندو کہتے ہیں۔دنیا مصیبت کی جگہ ہے مگر جب بیمار ہوں تو ڈاکٹروں کو سب سے زیادہ فیس وہی دیتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے منہ سے جتنا چاہو کہو کہ دنیا مصیبت کی جگہ ہے لیکن یہاں سے تم ہلنا نہیں چاہتے۔کیونکہ خدا نے تمہارے لئے اس زمین کو قرارگاہ قرار دیا ہے۔پھر وَ السَّمَآءَ بِنَآءً آسمان بھی تمہاری حفاظت کا موجب ہے۔جو چیزیں زمین کے ذریعہ پوری نہ ہوسکتی تھیں ان کو ہم تمہارے لئے آسمان سے نازل کرتے ہیں۔کیونکہ آسمان بناء کا موجب ہے۔وَ صَوَّرَکُمْ پھر اس خدا نے تمہیں شکل دی۔فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْاور بڑی اعلیٰ درجہ کی اور مکمل قابلیتوں والی شکل بنائی۔وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِاور تمہارے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کی چیزیں پیدا کی ہیں۔اگر چیزیں خراب ہوتیں تو تمہاری قابلیتیں بھی اعلیٰ درجہ کی نہ ہوتیں۔مگر ان قابلیتوں کو خرابی سے بچانے کے لئے تمہارے لئے اﷲ تعالیٰ نے رزق طیّب پیدا کیا۔فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ پس اے لوگو! یہ رب العلمینَ ہے۔اگر وہ رب العلمین نہ ہوتا اور سورج کوئی اور پیدا کرتا اور زمین کوئی اور پیدا کرتا تو سورج اور زمین کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہوتا۔مگر اب دیکھو سورج زمین کی حفاظت کر رہا ہے اور زمین سورج کی۔یہ سب باتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ ایک ہی خدا ہے