انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 463

۴۶۳ زائد حق نیابت دینے کی ضرورت پیش آئے گی اور اگر اس طرح ہوگا تو پھر نیابتی حکومت چلے گی کیونکر؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس اقلیت کے لئے اس امر کی ضرورت ہوتی ہے جس کی نسبت خطرہ ہو کہ اکثریت اور اس کے درمیان مذہبی یا قومی تعصب حائل ہوگا- ورنہ خالی اقلیت ہونے کی وجہ سے کسی خاص قانون کی ضرورت پیش نہیں آتی- دوسرے اگر ایک سے زیادہ اقلیتیں مل کر ایسی تعداد کو پہنچ جاتی ہوں کہ اکثریت کو ظلم سے روک سکیں، تب بھی کسی خاص حفاظتی تدبیر کی ضرورت نہیں ہوتی- ہندوستان میں مشکل یہی ہے کہ قابل ذکر اقلیت صرف ایک ہی ہے- بدھ اور سکھ گو ہندوؤں سے علیحدہ مذہب کے دعویدار ہیں مگر وہ عملی سیاست میں ایک ہیں- اور وہ درحقیقت اقلیتوں کی حفاظت کا موجب نہیں ہیں، بلکہ اکثریت کا پلڑہ بھاری کرنے کا موجب ہیں- اگر دو حقیقی اقلیتیں ہندوستان میں ہوتیں جو مل کر ایک زبردست اقلیت بن جاتیں تب مسلمانوں کو زائد حق دینے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی- اس وقت حقیقی اقلیت مسلمانوں کے سوا صرف مسیحیوں کی ہے- مگر وہ صرف ایک فیصدی ہیں- اور انہیں نہ تو اپنی انتہائی کمزوری کی وجہ سے ہندوؤں سے کوئی خطرہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ ظلم کے روکنے میں مسلمانوں کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں- کیا ہندوستان کو خود اختیاری حکومت نہیں ملنی چاہئے میں اس موقع پر اس خیال کو رد کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو بعض لوگ ہندو مسلم مناقشات کے ذکر پر ظاہر کیا کرتے ہیں- اور وہ یہ ہے کہ اگر ہندوستان میں اس قدر اختلاف ہے تو پھر ہندوستان کو خود اختیاری حکومت نہیں ملنی چاہئے- میرے نزدیک جب ایسے ذرائع موجود ہیں کہ اقلیت کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان ذرائع کو اختیار کر کے خود اختیاری حکومت ہندوستان کو نہ دی جائے- یورپ میں ایسے بہت سے ممالک ہیں کہ جن میں شدید اختلاف کا وجود تسلیم کیا گیا ہے- مگر باوجود اس کے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے ذرائع اختیار کر کے وہاں جدید حکومتیں قائم کی گئی ہیں- پس کوئی وجہ نہیں کہ جو کچھ یورپ میں کیا گیا ہے وہی ہندوستان میں نہ کیا جائے- دوسری اقلیتوں کے حقوق تلف ہونے کا سوال دوسری دلیل نہرو کمیٹی کی مسلمانوں کو زیادہ نیابت دینے کے خلاف یہ ہے کہ اس طرح دوسری اقلیتوں کے حقوق تلف ہو جاتے ہیں- میں نہیں سمجھ سکتا کہ